خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 625 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 625

خطبات مسرور جلد 14 625 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02دسمبر 2016 ہے یا وہ جھوٹے ہوتے ہیں۔اگر ان میں جرآت اور سچائی ہو تو کسی بھی چیز کی پرواہ کرنے والے نہ ہوں۔عہد تو یہ کرتے ہیں کہ ہم جان مال وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہیں گے اور یہاں جب معاملہ ان کے خیال میں جماعت کی عزت و وقار کا آتا ہے تو اپنا نام چھپانے لگ جاتے ہیں تاکہ کہیں ان کے وقار اور ان کی عزت کو نقصان نہ پہنچ جائے۔پس جس نے ابتدا میں ہی کمزوری دکھا دی اس کی باقی باتیں بھی غلط ہونے کا بڑا واضح امکان ہے۔قرآن کریم میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے پاس اگر کوئی خبر پہنچے تو تحقیق کر لیا کرو اور یہ بات ہر عقل مند جانتا ہے کہ کسی بھی تحقیق کے لیے بات کہنے والے یا بات پہنچانے والے کی بات سن کر فوراً اس بات کے متعلق تحقیق نہیں شروع ہو سکتی، نہ ہوتی ہے۔بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ بات پہنچانے والا خود کیسا ہے اسی سے تحقیق کی ابتدا ہوتی ہے۔اس کے بارے میں پہلے تحقیق ہو گی کہ کیا وہ ہر قسم کی برائیوں سے پاک ہے۔خود تو وہ کسی برائی میں ملوث نہیں۔ایمان میں کمزور تو نہیں ہے۔یا یہ نہ ہو کہ خود تو ایمان میں کمزور ہو اور دوسروں پر الزام لگارہا ہو کہ یہ ایسا ہے ویسا ہے۔عموماً دیکھا گیا ہے کہ دوسروں پر بھیانک الزام لگانے والے چاہے وہ کوئی عہدیدار ہے یا عہدیدار نہیں۔اس وقت کسی کے بارے میں بھیانک اور خوفناک الزام لگاتے ہیں یا بڑی شدت سے الزام لگاتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ ان کے ذاتی مفادات دوسروں سے متاثر ہونے والے ہیں۔پس تحقیق کرنے سے پہلے یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ شکایت کرنے والا کیسا ہے وہ مومن ہے یا فاسق ہے ؟ جب شکایت کرنے والے کا علم ہی نہیں تو یہ بھی پتا نہیں چل سکتا کہ وہ کس زمرہ میں آتا ہے۔ہاں یہ ممکن ہے کہ اگر کوئی لکھنے والا ایسی بات لکھتا ہے جو جماعت کے مفادات کو نقصان پہنچانے والی ہے تو پھر اپنے طور پر تحقیق کرلی جاتی ہے۔اسی طرح اگر یہ بھی علم ہو جائے کہ شکایت کرنے والا کون ہے تو جیسا کہ میں نے کہا کہ پہلے اس کے اپنے کردار کے بارے میں تحقیق ہو گی۔اسی طرح اپنے طور پر جو اس نے باتیں کی ہیں اس کی سچائی کے بارے میں بھی تحقیق ہوگی تاکہ پتا لگے کہ وہ سچ کہتا ہے یا نہیں۔حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں کہ قرآنی تعلیم یہ ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اِن جَاءَ كُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأَ فَتَبَيَّنُوا - (الحجرات: 7) اگر تمہارے پاس کوئی فاسق شکایت لے کر آتا ہے اور کسی کے بارے میں کوئی بری بات کہتا ہے تو اس کی تحقیق کرو۔پھر اس کے بعد کوئی کارروائی کرو۔لیکن شکایت کرنے والے ایک تو اپنا نام نہ لکھ کر خود مجرم بنتے ہیں۔پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کی بات اسی طرح قبول بھی کی جائے جس طرح انہوں نے لکھی ہے اور جس کے خلاف شکایت ہے فوراً اس کے لیے سزا کا حکم نافذ کر دیا جائے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ فاسق کے معنی صرف بد کار کے ہی نہیں ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عربی میں بد کار کو بھی فاسق کہتے ہیں لیکن لغت کے لحاظ سے فاسق اسے بھی کہتے ہیں جو تیز طبیعت کا ہو۔بات بات