خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 624
خطبات مسرور جلد 14 624 49 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02دسمبر 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 02/دسمبر 2016ء بمطابق 2/ فتح 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بعض لوگ بعض عہدیداروں کے خلاف یا بعض ایسے لوگوں کے خلاف بھی جو عہدیدار نہیں شکایت کرتے ہیں کہ یہ ایسے ہیں اور یہ ویسے ہیں۔اس نے فلاں جرم کیا اور اس نے فلاں خلاف شریعت حرکت کی۔پس فوری طور پر ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے کیونکہ یہ لوگ جماعت کو بد نام کر رہے ہیں۔لیکن اکثر ایسے لکھنے والے اپنی شکایتوں میں اپنے نام نہیں لکھتے یا فرضی نام اور فرضی پتا لکھتے ہیں۔ایسے لوگوں کی شکایتوں پر ظاہر ہے کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور نہ ہو سکتی ہے اور جب کچھ عرصہ گزر جائے تو پھر شکایت آتی ہے کہ میں نے لکھا تھا ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔اگر کارروائی نہ ہوئی تو بڑا ظلم ہو جائے گا۔یہ بے نام شکایت کرنے کی بیماری جو ہے یہ پاکستان اور ہندوستان کے لوگوں میں زیادہ ہے۔باقی دنیا کے مقامی لوگوں کی طرف سے تو شاید ہی کوئی اس قسم کی شکایت آئی ہو گی لیکن پاکستانی جو باہر ملکوں میں بھی آباد ہیں ان میں بھی بعض میں یہ بیماری ہے کہ اس طرح کی بے نام شکایت کر کے بات کریں۔تو یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ہر دور میں ایسے لوگ پائے جاتے رہے ہیں جو اس قسم کی شکایات کرنے والے ہیں جس طرح آج کل بعض لوگ مجھے لکھتے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں بھی، خلافت ثالثہ میں بھی، خلافت رابعہ میں بھی یہ شکایت کرنے والے موجود تھے جو بے نامی شکایتیں کیا کرتے تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ایسی شکایت پر ایک دفعہ ایک خطبہ دیا تھا کیونکہ یہ ایسے لوگوں کا منہ بند کروانے کے لیے بڑا جامع اور واضح ہے اس لیے اس خطبہ سے استفادہ کرتے ہوئے میں نے آج کچھ کہنے کا سوچا ہے۔جو شکایت کرنے والے اپنا نام نہیں لکھتے یا فرضی نام لکھتے ہیں ان میں پہلی بات تو یہ ہے کہ یا منافقت ہوتی