خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 623
خطبات مسرور جلد 14 623 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2016 تمام اولاد کے رشتے انہوں نے خالص دینی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے گئے۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں تین بیٹیاں اور پانچ بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔تین بیٹے آپ کے واقف زندگی مربی ہیں جن میں سے ایک بیٹے طاہر احمد صاحب چیمہ جامعہ احمدیہ میں استاد ہیں۔ایک بیٹے مبارک احمد چیمہ صاحب انچارج دفتر علیاء ہیں اور اس وقت سیکر ٹری شوریٰ بھارت بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔تیسر اجنازہ غائب مکرم رانا مبارک احمد صاحب کا ہے جو لاہور کے رہنے والے تھے۔اس کے بعد یہاں آگئے۔15 نومبر 2016ء کو 78 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔انا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔ان کے والد رانا محمد یعقوب صاحب مرحوم نے ایک خواب کے نتیجہ میں احمدیت قبول کی تھی جس کی وجہ سے خاندان میں شدید مخالفت ہوئی اور انہیں گھر بار چھوڑنا پڑا۔پھر اس کے بعد آپ کی والدہ نے بھی احمدیت قبول کر لی۔رانا صاحب بچپن سے ہی جماعتی خدمات میں ہمیشہ صف اوّل میں رہے۔ابتدا سے ہی خلافت اور جماعت کے ساتھ اخلاص و وفا کا تعلق تھا۔جماعتی خدمات کا آغاز 1967ء سے ہو ا جو آخر دم تک جاری رہا۔آپ کو لاہور اور بہاولپور میں بطور قائد مجلس اور سیکرٹری مال کے علاوہ تیس سال تک صدر جماعت علامہ اقبال ٹاؤن لاہور اور اس کے علاوہ لمبا عرصہ ضلع لاہور کے سیکرٹری مال، سیکرٹری تحریک جدید اور سیکرٹری وقف جدید کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔ریٹائر منٹ کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کیا تھا۔چنانچہ الفضل کے نمائندہ کے طور پر خدمات بجالاتے رہے۔نہایت نرم گفتار اور دعا گو ، چندہ جات میں باقاعدہ، خلافت سے دلی محبت رکھنے والے مخلص انسان تھے۔الفضل میں مضامین بھی لکھا کرتے تھے اور ان کے مضامین اچھے ہوا کرتے تھے۔جب تک یہ پاکستان میں رہے ہیں مجھے با قاعدہ وہاں کے حالات یا کوئی بیمار ہوا تو اس کے بارے میں فوری اطلاع سب سے پہلے ان کی طرف سے آیا کرتی تھی۔لوگوں کے لئے بھی اکثر دعاؤں کی تحریک کیا کرتے تھے۔پسماندگان میں ان کی اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور تین بیٹے اور کافی پوتے پوتیاں شامل ہیں۔سارے یہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔اسی طرح شہید مرحوم کے بھی اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھے۔اب بچے سیریا سے وہاں کینیڈا چلے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس ماحول سے بھی ان کو بچا کے رکھے اور وہ نیک مقاصد اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں میں بھی جاری رکھے جن کی خاطر شہید نے احمدیت قبول کی تھی۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 16 دسمبر 2016ء تا22/ دسمبر 2016ء جلد 23 شمارہ 51 صفحہ 05تا08)