خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 622
خطبات مسرور جلد 14 622 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2016 آگے بڑھنے کی کوشش کرتے۔ان کے سسر کہتے ہیں کہ قبول احمدیت کے بعد اس میں ایک عجیب اخلاص پیدا ہو گیا اور انہوں نے اپنی ویگن احمدیوں کے لئے وقف کر دی۔جمعہ کے روز احمدیوں کو مختلف مقامات سے نماز سینٹر میں لاتے پھر واپس بھی چھوڑتے۔اسی طرح مستورات کو بھی اجلاس کے لئے صدر لجنہ کے گھر تک لانے اور واپس چھوڑنے کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے۔احمدی احباب انہیں کرایہ دینے کی کوشش کرتے تو وہ لینے سے انکار کر دیتے۔اور اگر کوئی بہت اصرار کرتا تو تیل کا خرچ لے لیتے۔چندہ جات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ ان چندوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے میرے کام میں بہت برکت ڈالی ہے اور اس کی مثال وہ دیتے ہیں کہ انہوں نے کسی کے ساتھ مل کر ایک ویگن خریدی تھی جو وہ چلایا کرتے تھے اور اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق دی کہ انہوں نے پارٹنر شپ سے علیحدہ ہو کے وہ ساری ویگن خود ہی خرید لی۔ان کی ایک اور رشتہ دار ہیں وہ کہتی ہیں کہ صلہ رحمی کا وصف ان میں بہت نمایاں تھا۔کہتی ہیں جب فسادات بڑھے، جنگ کی صور تحال پید اہوئی، ہمارے علاقے میں حالات بہت خراب ہوئے تو روٹی نایاب ہو گئی اور اگر کہیں ملتی تھی تو بہت مہنگی ملتی تھی۔ایسے حالات میں عدنان شہید تمام رشتہ داروں کی خدمت پر مامور تھے۔وہ دور دراز کے علاقوں سے روٹی لا کر ہمیں دیا کرتے تھے۔شہید نے اپنے پیچھے بیوی اور پانچ بچے چھوڑے ہیں۔دو بیٹیاں ان کی پہلی مرحومہ بیوی سے تھیں جبکہ دو بیٹے اور ایک بیٹی دوسری بیوی سے ہیں۔اللہ کے فضل سے یہ سب لوگ کینیڈا پہنچ چکے ہیں۔دوسر اجنازہ ہے مکرمہ بشیر بیگم صاحبہ اہلیہ چوہدری منظور احمد صاحب چیمہ درویش قادیان کا جو7 / نومبر 2016ء کو 93 سال کی عمر میں مختصر علالت کے بعد وفات پا گئیں۔اِنَّا لِله وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔1923ء میں پاکستان میں پیدا ہوئیں۔اس وقت پاکستان تو نہیں تھا۔علاقہ پاکستان کا تھا۔ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔1944ء میں محترم چوہدری منظور احمد صاحب چیمہ کے ساتھ شادی ہوئی۔چیمہ صاحب نے نومبر 1947ء میں جب حفاظت مرکز کے لئے قادیان آنے کے لئے وقف کیا تو یہ بھی 1952ء میں قادیان آکر اپنے خاوند کے ساتھ عہد درویشی میں شامل ہو گئیں۔قادیان سے بہت محبت تھی۔اور خاوند کی وفات کے بعد آپ نے 36 سال کا لمبا عرصہ نہایت صبر و شکر کے ساتھ گزارا۔اللہ کے فضل سے نہایت تقویٰ شعار اور مخلوق خدا کی ہمد رد بہت نیک خاتون تھیں۔گھر پہ آئے ہوئے کسی سوالی کو کبھی خالی ہاتھ نہیں جانے دیتی تھیں۔وفات سے ایک سال قبل تک ہر سال رمضان کے پورے روزے رکھا کرتی تھیں اور ایک سے زیادہ مرتبہ قرآن شریف کا دور مکمل کرتی تھیں۔اپنی اولاد کو بھی نماز با جماعت اور قرآن کریم کی تلاوت اور خلافت اور نظام جماعت کی مکمل اطاعت اور فرمانبر داری کی تلقین کرتی رہیں۔انتہائی دعا گو، عبادت گزار، صابر شاکر، توکل علی اللہ کا کامل نمونہ، صاف گو، اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرنے والی بڑی خوددار، بڑی غیور اور مشفق خاتون تھیں۔صاحب کشف ورڈ یا بھی تھیں۔