خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 621 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 621

خطبات مسرور جلد 14 621 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2016 عدنان سے کہا کہ قرآن کہتا ہے وہ لوگ ظالم ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ سحر زدہ تھے۔مگر بعض مسلمان اس بات کے قائل ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہوا تھا جبکہ جماعت احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ یہ بات قطعاً غلط ہے اور ایسی کسی روایت کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔عدنان نے یہ بات سنتے ہی حسب عادت فوراً فون اٹھایا اور اپنے مولوی سے پوچھا کہ کیا واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو ہوا تھا۔مولوی صاحب نے کہا کہ ہاں ہوا تھا اور اس کا ذکر بخاری میں ہے۔عدنان صاحب نے مولوی کو کہا کہ میں ایک عام سا اور گناہگار سا آدمی ہوں۔مجھے معلوم ہے کہ میرے بعض قریبی اشخاص نے مجھ پر جادو کرنے کی کوشش کی لیکن مجھ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے مقرب ترین اور محبوب ترین رسول تھے پھر میں یہ کیسے مان لوں کہ بعض لوگ ان پر جادو کرنے میں کامیاب ہو گئے۔یہ کہہ کر انہوں نے فون بند کر دیا اور ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ اس واقعہ کے کچھ دن بعد عدنان سوچ بچار کرتے رہے۔پھر ایک روز مجھے کہنے لگے کہ میری خواہش تھی کہ میری بیوی اچھے اخلاق اور اعمال کی مالک ہو۔میں نے دیکھا ہے کہ جب سے تم نے احمدیت قبول کی ہے تمہارے اندر بہت نیک تبدیلی واقع ہوئی ہے۔نیز بچوں اور میرے رشتہ داروں کے ساتھ بہتر اخلاق سے پیش آنے لگی ہو۔یہ تاثیر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اس لئے میں بھی اس مبارک جماعت میں شامل ہوتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے بیعت کر لی۔شہید کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ ایک شدت پسند تنظیم کے بعض ارکان جو جماعت کے خلاف نہایت اہانت آمیز باتیں کیا کرتے تھے۔مجھے ان کی باتیں سن کر بہت دکھ ہوتا۔جب میں اس کے بارے میں عدنان کو بتاتی تو وہ کہتا کہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور کبھی ان سے بحث نہ کرنا۔ہمارا کام صرف ان کے لئے دعا کرنا ہے۔پھر 20 جون 2013ء کو اس تنظیم کے بعض ارکان نے عدنان کو اغوا کر لیا اور تقریباً دوماہ کے بعد انہیں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔اناللهِ وَانّا اِلَيْهِ رَاجِعُون۔شہادت کے وقت ان کی عمر 42، 43 سال تھی۔کہتی ہیں گو مجھے ان کی شہادت کے بارہ میں خواہیں تو آرہی تھیں لیکن ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔ایک روز ہمارے علاقے کے مخالفین میں سے ایک شخص نے مجھے کہا کہ کیا تم ابھی تک اپنے خاوند کا انتظار کر رہی ہو۔وہ نہیں آئے گا کیونکہ اسے قتل کر دیا گیا ہے۔ہم نے اسے بہتیر ا سمجھایا تھا کہ احمدیت چھوڑ دو لیکن وہ یہی کہتا تھا کہ میں احمدیت نہیں چھوڑوں گا خواہ میری گردن کٹ جائے۔اس لئے وہ شہادت تو بڑی پرانی ہو گئی ہے لیکن پتا کیونکہ ان کو اب چلا ہے اس لئے جنازہ اب ادا کیا جارہا ہے۔شہید کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ شہید نیک، صالح اور نمازوں کے پابند تھے۔ہمیشہ باوضو رہنے کی کوشش کرتے۔ایک ہمدرد اور محبت کرنے والے شوہر اور شفیق باپ تھے۔بچوں کی دینی تربیت کی ہمیشہ ان کو فکر رہتی۔ہر ایک کی مدد و خدمت کرنے والے اور صلہ رحمی کرنے کے جذبہ سے مالا مال تھے۔چندوں میں باقاعدہ اور سب سے