خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 620 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 620

خطبات مسرور جلد 14 620 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2016 کے ارشاد کے مطابق حقیقی مسلمان بناتا ہے۔اس خوش قسمتی پر ہر احمدی جتنا بھی شکر ادا کرے کم ہے اور حقیقی شکر گزاری یہی ہے کہ نظام جماعت کی مکمل اطاعت، خلافت کی اطاعت ہو۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اس شکر گزاری کی توفیق عطا فرمائے۔ہر احمدی کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے والے بنیں۔اگر کبھی کسی بھی قسم کی گواہیوں کی ضرورت پڑے تو اس میں خیانت کے مرتکب نہ ہوں۔جماعت کا ہر عہدیدار اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے۔اپنے عہدوں اور اپنی امانتوں کو پورا کرنے والا اور ادا کرنے والا ہو۔اپنی تمام ذمہ داریوں کو انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ادا کرنے والا ہو۔یہ خوبصورت تعلیم ہماری نسلوں میں بھی جاری رہے اور اس کے لئے ہمیں کوشش بھی کرنی چاہئے تا کہ جب وقت آئے تو ہم دنیا میں حقیقی انصاف قائم کر کے دکھانے والے ہوں۔وہ انصاف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اور جس کے نمونے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق نے اس زمانے میں بھی قائم فرمائے اور جس کی توقع آپ نے اپنے ماننے والوں سے بھی رکھی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق بھی عطا فرمائے۔نماز کے بعد میں کچھ جنازے غائب پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ مکرم عدنان محمد گر دیہ صاحب کا ہے جو حلب سیریا کے رہنے والے تھے۔جنہیں 2013ء میں سیریا کی ایک دہشت گرد تنظیم نے اغوا کیا تھا اس کے بعد شہید کیا۔عدنان صاحب کی پیدائش 1971ء میں سیریا کے شہر حلب میں ہوئی۔2003ء میں انہوں نے خاتون تماضر صاحبہ سے شادی کی۔عدنان صاحب کے سر یا سین شریف صاحب 2007ء میں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔پھر ان کی تبلیغ سے ان کے بچوں کے علاوہ ان کی بیٹی تماضر بھی احمدیت کی صداقت کی قائل ہوئیں اور عدنان صاحب کے گھر میں احمدیت کے بارے میں باتیں ہونے لگیں۔لیکن عدنان شہید صاحب پڑھے لکھے نہ تھے۔اکثر مولویوں کے پیچھے چلتے تھے۔جب ان کی بیوی نے 2010ء میں بیعت کر لی تو مولویوں کے اکسانے پر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو گھر میں ایم ٹی اے دیکھے گی یا احمدیت کے بارے میں بات کرے گی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔ان کے سسر یاسین شریف صاحب انہیں قرآن و سنت کے حوالے سے سمجھاتے تھے تو خاموش ہو جاتے۔جب مولویوں کے پاس جاتے تو پھر ساری باتیں بھول جاتے۔شہید کے سر کہتے ہیں کہ 2011ء کی بات ہے کہ میں ان کے گھر میں ان کی بیوی یعنی اپنی بیٹی کے ساتھ مل کر قرآن پڑھ رہا تھا کہ اتنے میں عدنان بھی کام سے واپس آگیا اور ہمیں قرآن پڑھتاد یکھ کر کہنے لگا کہ پڑھتے رہیں کیونکہ میں آپ کی تفسیر سننا چاہتا ہوں۔ہم اس وقت سورۃ بنی اسرائیل کی یہ آیت پڑھ رہے تھے کہ إِذْ يَقُولُ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلاً مَّسْحُورًا (بنى اسرائيل:48) یعنی جب ظالم لوگ کہتے ہیں تم ایک ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو جو سحر زدہ ہے۔ان کے سسر کہتے ہیں میں نے