خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 619 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 619

خطبات مسرور جلد 14 619 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2016 ہے۔اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ آپس کے تعلقات میں مثالی نمونے قائم کریں۔انصاف کے تقاضے پورے کریں۔اپنے اخلاق کو اعلیٰ معیار تک پہنچائیں۔ایک دوسرے سے معاملات میں کسی بھی قسم کی طرفداری سے اپنے آپ کو مکمل طور پر پاک کریں۔کسی بھی طرف ان کا جھکاؤ نہ ہو۔احمدی کی گواہی اور بیان اپنے انصاف اور سچائی کے لحاظ سے ایک مثال بن جائے اور دنیا یہ کہے کہ اگر احمدی نے گواہی دی ہے تو پھر اسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ گواہی انصاف کے اعلیٰ معیار پر پہنچی ہوئی ہے۔اگر ہم یہ کر لیں تو ہم اپنی تقریروں میں، اپنی باتوں میں، اپنی تبلیغ میں سچے ہیں ورنہ پھر جیسے دوسرے ویسے ہی ہم۔ہر احمدی کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہم نے اپنے عہد بیعت میں تمام قسم کی برائیوں سے بچنے کا عہد کیا ہے اور عہد پر توجہ نہ دینا اور جان بوجھ کر اس پر عمل نہ کرنا خیانت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک حقیقی مومن کی نشانی بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کسی شخص کے دل میں ایمان اور کفر نیز صدق اور کذب اکٹھے نہیں ہو سکتے اور نہ ہی امانت اور خیانت اکٹھے ہو سکتے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد3 صفحه 320 مسند ابی هریرة حديث 8577 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) پھر ایک حدیث میں آپ نے فرمایا جو عہدیداروں کو بھی سامنے رکھنی چاہئے اور ہر احمدی کو بھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تین امور کے بارے میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کر سکتا اور وہ تین باتیں یہ ہیں۔خدا تعالیٰ کے لئے کام میں خلوص نیت۔دوسرے ہر مسلمان کے لئے خیر خواہی۔اور تیسرے جماعت مسلمین کے ساتھ مل کر رہنا۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی ذمہ داریوں کو ادا کرنا اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ادا کرنا اور خلوص نیت سے ادا کرنا یہی اللہ تعالیٰ کی امانت کا حق ادا کرنا ہے۔اسی طرح ہر شخص کے لئے دوسرے کا حق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔جب ہم میں سے ہر ایک انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ایک دوسرے کا حق ادا کرنے والا بن جائے گا تو حقوق کے حصول کی دوڑ خود بخود ختم ہو جائے گی۔یہ نہیں ہو گا کہ میرا حق دو بلکہ حق ادا کرنے والے ہوں گے اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حقیقی مسلمان کی نشانی بتائی ہے۔اور پھر ہر احمدی کو یادرکھنا چاہئے کہ جماعت مسلمین سے چھٹے رہنا جو ہے یہی حقیقی مسلمان بناتا ہے۔اس وقت دنیا میں صرف اور صرف ایک جماعت ہے جو جماعت احمد یہ مسلمہ کہلاتی ہے اور یہی ایک جماعت ہے جو دنیا میں ایک نام سے پہچانی جاتی ہے اور اس کے علاوہ اور کوئی بین الا قوامی جماعت نہیں جو تمام دنیا میں ایک نام سے جانی جاتی ہو۔پس اس کے ساتھ جڑ کے رہنا اور نظام جماعت کا حصہ بنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (سنن الترمذى كتاب العلم باب ما جاء فى الحث على تبليغ السماع حديث 2658