خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 618 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 618

خطبات مسرور جلد 14 618 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2016 کی عاملہ کے ممبران بھی شامل ہیں جن کو اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ کیا وہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کر رہے ہیں ؟ اور یہ صرف کینیڈا کی بات نہیں ہے، جرمنی سے بھی اور یہاں بھی اور دوسرے بعض ممالک میں بھی یہی شکایتیں ہیں۔پس ہر جگہ اپنے رویوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے ورنہ انصاف کے تقاضے پورے نہ کر کے نہ صرف امانت اور عہدوں کا خیال نہیں رکھ رہے بلکہ خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔خدمت کر کے ثواب لینے کی بجائے نا انصافیاں کر کے یا متکبرانہ رویے دکھا کر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لینے والے بن جاتے ہیں۔پس جہاں غلطیاں ہوتی ہیں وہاں غلطیوں کو چھپانے کے لئے عذر لنگ تلاش کرنے کی بجائے ، غلط قسم کے عذر تلاش کرنے کی بجائے استغفار کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔پس ہمارے عہدیداروں کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق انصاف کے تمام تقاضے پورے کر رہے ہیں ؟ اپنے کام سے بھی انصاف کر رہے ہیں اور جن سے واسطہ پڑ رہا ہے ان سے بھی انصاف کر رہے ہیں ؟ صرف صدر ہونا یا سیکرٹری ہونا یا امیر ہونا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔یہ عہدے نہ کسی کی بخشش کے سامان کرنے والے ہیں، نہ ہی اللہ تعالیٰ پر اور اس کی جماعت پر کوئی احسان ہے۔اگر یہ اپنی امانتوں اور عہدوں کے اس طرح حق ادا نہیں کر رہے جس طرح خدا تعالیٰ چاہتا ہے اور خالص ہو کر ادا نہیں کر رہے تو کوئی فائدہ نہیں۔پس ہر فیصلہ میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کریں اور خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر ایک عہدیدار کو کام کرنا چاہئے۔اگر کوئی معاملہ سامنے آئے جس کے بارے میں پہلے غلط فیصلہ ہو چکا ہے تو جیسا کہ میں نے کہا اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ان فیصلوں کو درست کریں۔اپنے اخلاق کو بھی درست کریں اور اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو بھی یاد رکھیں کہ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرہ:84)۔کہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور ملاطفت سے بات کرو، اعلیٰ اخلاق سے بات کرو۔جیسا کہ میں نے کہا کہ دنیا کے ہر ملک میں عہدیداروں کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔اگر کینیڈا کی مثال میں نے دی ہے یا اس سے خیال آیا تو اس لئے کہ وہاں لوگوں میں، غیروں میں جماعت زیادہ جانی جاتی ہے اور اب میرے دورے کے بعد مزید تعارف بڑھا ہے اور ہم لوگوں کی نظر میں، غیروں کی نظر میں زیادہ ہیں۔پس اس لحاظ سے ہمیں ہر معاملے میں اپنے نمونے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ہمارا ہر عہدیدار خاص طور پر اور ہر احمدی عموماً دنیا کے سامنے ایک رول ماڈل ہونا چاہئے۔جہاں دنیا میں فتنے فساد اور افراتفری اور حقوق غصب کرنے کے نمونے نظر آتے ہیں وہاں جماعت میں انصاف اور حقوق کی ادائیگی کے نمونے نظر آنے چاہئیں۔اس تعارف سے دنیا والے دیکھیں گے کہ جماعت کس طرح کی ہے۔ہر فر د جو ہے وہ ایک نمونہ ہے۔پس ہر احمدی کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ذمہ داری صرف عہدیداروں کی ہی نہیں ہے، ہر احمد کی بھی ذمہ دار