خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 617
خطبات مسرور جلد 14 617 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2016 دوسرے فریق کے خلاف فیصلہ ہونا ہے لیکن دونوں فریقین کو یہ تسلی ہونی چاہئے کہ ہماری بات سنی گئی ہے اور سننے کے بعد فیصلہ کرنے والے نے اپنی عقل کے مطابق نتیجہ اخذ کیا ہے۔جن معاملات میں پبلک ڈیلنگ (Public Dealing) ہوتی ہے ان میں ایک تو قضاء کا شعبہ ہے جو لوگوں کے آپس کے اختلافات میں فیصلہ کرتا ہے۔پھر امور عامہ کا شعبہ ہے اس کا بھی کچھ نہ کچھ تعلق ہے۔پھر تربیت کا شعبہ ہے اور اصلاحی کمیٹی کا بھی کام ہے۔پھر بعض معاملات میں تحقیق کے لئے کمیشن بنائے جاتے ہیں ان کا بھی بعض دفعہ یہ کام ہو جاتا ہے اور کمیشن بھی فریقین کی باتیں سنتا ہے۔پس ہر شعبہ کا کام ہے کہ فیصلہ کرتے وقت اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ غور اور تدبر اور ہر چیز کی باریکی کو سامنے رکھتے ہوئے اور اس بار یکی کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے۔دعا کریں، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں کہ صحیح فیصلہ کی توفیق دے۔کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے دعا ضرور کرنی چاہئے۔بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم فیصلہ کرنے سے پہلے جب تک کچھ نفل نہ پڑھ لیں فیصلہ نہیں کرتے۔لیکن ایسے بھی ہیں جو بعض دفعہ لا پرواہی سے فیصلے کر جاتے ہیں یا کسی ذاتی رجحان کی وجہ سے فیصلے کر جاتے ہیں۔اسی طرح لوگوں سے معاملات اور ڈیلنگ (Dealing) میں جنرل سیکر ٹری کا شعبہ ہے۔جنرل سیکر ٹری اور اس کے دفتر میں کام کرنے والے ہر کارکن کا کام ہے کہ ہر آنے والے کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آئے۔یہ نہیں کہ جو پسندیدہ لوگ ہیں اور دوست ہیں ان کے لئے اور روتے ہوں اور جو نا واقف ہیں یا جن کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں ان کے ساتھ منفی رویے ہوں۔اور باقی شعبوں کے افسران کو جن جن کی بھی پبلک ڈیلنگ (Public Dealing) ہے اس بات کی نگرانی کرنی چاہئے کہ ان کے ساتھ کام کرنے والا ہر کارکن اور مدد گار انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنا کام کر رہا ہے یا نہیں۔یہ امانتیں ہیں جو کام کرنے والوں کے سپر د کی گئی ہیں اور کوئی خدمت کسی کے بھی سپر د کرتے وقت اس سے چاہے یہ عہد لیا جائے یا نہ کہ میں اپنے کام اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے سر انجام دوں گا اس کا کسی بھی خدمت کو قبول کرنا ہی یہ عہد بن جاتا ہے کہ میں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کام کروں گا۔(اور) یہ ایک ایسی امانت ہے جس کی ذمہ داری قبول کرنا خالصہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ہونا چاہئے۔ویسے تو ہر مومن اس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنی امانت اور عہد کی حفاظت کرے اور اس کا حق ادا کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بھی فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ هُمُ لأمنتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ (المومنون: 9)۔کہ مومن وہ ہیں جو اپنی امانتوں اور عہدوں کا خیال رکھتے ہیں لیکن جو خالصہ اللہ کام کرنے والے ہیں یا کرتے ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی خاطر یہ کام کر رہے ہیں۔جن کے سپرد خاص طور پر ذمہ داریاں کی گئی ہیں انہیں ایک عام مومن سے بھی بڑھ کر کس قدر محتاط ہونا چاہئے۔یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ صرف یہ نہ سمجھیں کہ مرکزی عہدیدار ہی مخاطب ہیں بلکہ صدران اور ان