خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 616
خطبات مسرور جلد 14 616 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2016 اور پیدا فرمانا چاہتے ہیں جو قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے والی ہو ، جس کے نیکیوں کے معیار بلند ہوں۔اس لئے آپ نے عہد بیعت میں قرآن کریم کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کرنے کا عہد ہم سے لیا ہے۔قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوى (المائدة: 9)۔یعنی دشمن قوموں کی دشمنی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔انصاف پر قائم رہو کہ تقویٰ اسی میں ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے مگر دشمن کے حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل اور انصاف کو ہاتھ سے نہ دینا یہ بہت مشکل اور فقط جواں مردوں کا کام ہے۔" فرماتے ہیں کہ "اکثر لوگ اپنے شریک دشمنوں سے محبت تو کرتے ہیں اور میٹھی میٹھی باتوں سے پیش آتے ہیں مگر ان کے حقوق دبالیتے ہیں۔ایک بھائی دوسرے بھائی سے محبت کرتا ہے اور محبت کے پردہ میں دھوکہ دے کر اس کے حقوق دبا لیتا ہے۔" (نور القرآن نمبر 2، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 409-410) آپ علیہ السلام اپنی جماعت کے افراد سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے معیار بہت بلند ہوں اور وہ عمل ہوں جو قرآنی تعلیم کے مطابق ہوں۔حقوق غصب کرنے والوں اور نا انصافی کرنے والوں میں شامل نہ ہوں۔اگر فیصلے کرنے کا اختیار ملے تو ہر رشتہ سے بالا ہو کر فیصلہ ہو، چاہے اس فیصلہ سے اپنے آپ کو نقصان پہنچ رہا ہو یا اپنے والدین کو نقصان پہنچ رہا ہو یا قریبی رشتہ داروں، اپنے بچوں کو نقصان پہنچ رہا ہو۔لیکن انصاف کے اعلیٰ معیار بہر حال قائم ہونے چاہئیں۔پس یہ نمونے جب ہم آپس میں قائم کریں گے تو دنیا کو بھی کہہ سکیں گے کہ آج ہم ہیں جو اپنے اندر یہ تبدیلی لا کر اور اسلام کی تعلیم پر عمل کر کے دشمن سے بھی انصاف کا حوصلہ رکھتے ہیں اور کرتے ہیں۔سچی گواہی دیتے ہیں چاہے اپنے خلاف ہو۔اپنے والدین کے خلاف ہو یا اپنے بچوں اور دوسرے قریبیوں کے خلاف دینی پڑے۔یہ نمونے ہم اس لئے قائم کر رہے ہیں کہ آئندہ دنیا کی رہنمائی ہم نے کرنی ہے۔اگر یہ نمونے نہیں تو ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں سے دور جا کر اپنے عہدوں سے خیانت کے مر تکب ہو رہے ہوں گے۔پس ہر احمدی کو اور خاص طور پر یہاں میں کہوں گا عہدیداروں کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس حد تک اپنی امانتوں کے حق ادا کرتے ہوئے انصاف اور عدل کے اس معیار پر قائم ہیں کہ ان کا ہر فیصلہ جو ہے وہ انصاف کے اعلیٰ معیاروں کو حاصل کرنے والا ہو۔میں کینیڈا گیا ہوں تو وہاں بھی بعض عہدیداروں یا ان لوگوں کے بارے میں جن کے پاس با قاعدہ عہدہ تو نہیں لیکن بعض خدمات سپرد کی گئی ہیں لوگوں کو شکایت ہے کہ وہ انصاف سے کام نہیں لیتے۔بعض اپنے قریبیوں کے حق میں فیصلہ کارجحان رکھتے ہیں یا فیصلے کرتے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ کسی نہ کسی کے حق میں فیصلہ ہونا ہوتا ہے اور