خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 615
خطبات مسرور جلد 14 615 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2016 کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے ہمیں قرآنی احکامات کی عملی مثالیں اپنے عمل سے دکھانے کی ضرورت ہے۔ہمارے پاس کوئی حکومت نہیں ہے جہاں ہم حکومتی سطح پر ان احکامات کے نمونے قائم کر کے دکھا سکیں۔جب وہ وقت انشاء اللہ آئے گا تو اعلی سطح پر بھی یہ نمونے ہمیں دکھانے ہوں گے لیکن اس وقت جماعتی اور معاشرتی سطح پر یہ نمونے ہمیں قائم کرنے کی ضرورت ہے۔دنیا ہم سے پوچھ سکتی ہے کہ ٹھیک ہے تمہارے پاس حکومتی اختیارات تو نہیں ہیں لیکن تمہارا ایک جماعتی نظام ہے۔تم ایک جماعت ہو۔تم ایک ہاتھ پر اٹھنے اور بیٹھنے کا دعوی کرتے ہو۔تمہارا ایک دوسرے سے معاشی اور معاشرتی معاملات میں واسطہ پڑتا ہے کیا تم انصاف اور ایمانداری کے اس معیار پر اپنے معاملات طے کرتے ہو۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک جگہ شروع میں قسط کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور دوسری جگہ عدل کا جس کے معنی ہیں برابری، مکمل انصاف اور اعلیٰ اخلاقی معیار، کسی بھی قسم کی طرفداری سے مکمل طور پر پاک ہونا اور بغیر کسی جھکاؤ اور اثر کے کام کرنا۔اب ہم میں سے ہر ایک کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اپنے معاملات طے کرتے ہیں؟ کیا ہم یہ معیار قائم کرنے کے لئے اپنے خلاف گواہی دینے کے لئے تیار ہیں؟ کیا ہم یہ معیار قائم کرنے کے لئے اپنے والدین کے خلاف گواہی دینے کے لئے تیار ہیں ؟ کیا ہم یہ معیار قائم کرنے کے لئے اپنے قریبی رشتہ داروں کے خلاف گواہی دینے کے لئے تیار ہیں ؟ یہاں قریبی رشتہ داروں سے مراد سب سے پہلے تو بچے ہیں۔کیا ہم یہ معیار قائم کرنے کے لئے اپنی خواہشات کو دبانے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور عملاً ثابت کر کے اس کو دکھا بھی سکتے ہیں؟ یہ سب ایسی باتیں ہیں جو معمولی چیز نہیں۔اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق نے یہ نمونے قائم کر کے ہمیں دکھائے۔چنانچہ ایک واقعہ آتا ہے۔آپ کے والد قادیان کے اس علاقے کے رئیس تھے۔زمیندارہ تھا۔ایک موقع پر جب وہاں مزارعوں کے ساتھ ایک خاندانی مقدمہ چل پڑا تو اس مقدمے میں مزارعوں کے حق میں سچائی بیان کر کے آپ نے اپنے خاندان کے مالی نقصان کی کوئی پرواہ نہیں کی بلکہ ان غریب مزارعوں نے باوجود یہ علم ہونے کے کہ آپ مالک ہیں، اس میں حصہ دار ہیں عدالت میں آپ کی گواہی پر فیصلہ کرنے کا کہا۔کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ آپ ہمیشہ حق اور انصاف پر قائم ہوتے ہوئے گواہی دیں گے۔چنانچہ آپ نے ان کے حق میں گواہی دی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 542-543) پس آپ یہ معیار اپنے ماننے والوں میں بھی قائم فرمانا چاہتے ہیں اس لئے کہ آپ وہ جماعت بنانا چاہتے ہیں