خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 614
خطبات مسرور جلد 14 614 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2016 کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں سب سے زیادہ اس وقت دنیا میں فساد کی لپیٹ میں مسلمان ممالک ہی ہیں۔اس سے زیادہ بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے۔اس وقت تک تو کسی صحافی نے مجھے براہ راست یہ نہیں کہا کہ ان احکامات کی اگر کوئی عملی حقیقت ہے تو پہلے مسلمان ممالک اپنی اصلاح کریں۔لیکن ان کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھ سکتے ہیں اور اٹھتے ہوں گے اس لئے میں عموماً غیروں کے سامنے اپنی جو تقریریں ہوتی ہیں ان میں پہلے مسلمانوں کی حالت کا ذکر کر کے پھر ان طاقتوں کو ان کا اپنا چہرہ دکھاتا ہوں اور صحافیوں کے سامنے اور مختلف انٹر ویوز میں یہ بتاتا ہوں کہ مسلمانوں کا اس پر عمل نہ کرنا بھی اسلام کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کی دلیل ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرما دیا تھا کہ مسلمانوں کی یہ حالت ہو جائے گی کہ وہ اسلامی تعلیم کی حقیقت بھلا دیں گے اور اپنی نفسانی خواہشات اور اپنے ذاتی مفادات ان کی ترجیح بن جائیں گے۔(ماخوذ از الجامع لشعب الايمان جلد 3 صفحه 17-3-318 حدیث 1763 مطبوعه مكتبة الرشد بيروت 2004ء) جب ایسی صورت ہو گی تو اُس وقت آپ کے غلام صادق کا ظہور ہو گا جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور جس کے ظہور کے زمانے کی نشانیاں قرآن کریم نے بھی بیان فرمائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بڑے واضح طور پر کھول کر بیان فرمائیں۔اس لئے ایک احمدی مسلمان کے لئے ان حالات میں پریشان ہونے کی بجائے ایک لحاظ سے خوشی کا مقام ہے ، یہ تسلی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی جو حالت بیان کی تھی اور خاص طور پر علماء کی حالت کی پیشگوئی فرمائی تھی وہ پوری ہوئی اور ہم اس کے گواہ بنے اور یہ بات تو اب غیر احمدی مسلمان بھی کہنے لگ گئے ہیں اور خاص طور پر اپنے علماء کے بارے میں بھی آواز میں اٹھانے لگ گئے ہیں گو دبی دبی زبان میں ہی یہ آوازیں اٹھ رہی ہوں۔لیکن ہم احمدی مسلمان اس لحاظ سے بھی خوش ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے دوسرے حصہ کو بھی پورا کرنے والوں میں شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرستادے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق مسیح موعود اور مہدی معہود کو ماننے والوں میں بھی شامل ہیں جس کے ذریعہ سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا دور شروع ہوا ہے۔لیکن کیا اتنی بات ہمیں ہمارا مقصد حاصل کرنے والا بنادے گی ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر ہم میں سے ہر ایک کو غور کرنا چاہئے۔یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے یہ آیت میں اپنی بہت سی تقریروں میں، خطابات میں بیان کر چکا ہوں جو غیروں کے سامنے کرتا ہوں اور انہیں بتاتا ہوں کہ اسلام جب انصاف اور عدل قائم کرنے کا کہتا ہے تو اس کے لئے جو معیار قائم کرتا ہے وہ اس آیت میں درج ہیں۔اور اکثر لوگ اس سے بڑے متاثر ہوتے ہیں، اپنے تبصروں میں اس کا ذکر بھی کرتے ہیں۔لیکن ہمارا کام صرف علمی طور پر دوسروں کو متاثر کرنا نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام