خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 613
خطبات مسرور جلد 14 613 48 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2016ء بمطابق 25 نبوت 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن (النساء:136) تشهد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُن غَنِيّاً أَوْ فَقِيرًا فَاللهُ أَوْلى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا وَإِن تَلْوَوَا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيراً اس آیت کا ترجمہ ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر گواہ بنتے ہوئے انصاف کو مضبوطی سے قائم کرنے والے بن جاؤ خواہ خود اپنے خلاف گواہی دینی پڑے یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔خواہ کوئی امیر ہو یا غریب دونوں کا اللہ ہی بہترین نگہبان ہے۔پس اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو مبادا عدل سے گریز کرو۔اور اگر تم نے گول مول بات کی یا پہلو تہی کر گئے تو یقینا اللہ جو تم کرتے ہو اس سے بہت باخبر ہے۔ہم دنیا کو کہتے ہیں کہ دنیا کے مسائل کا حل اسلامی تعلیم میں ہے اس کے لئے ہم قرآنی تعلیم پیش کرتے ہیں۔میرے کینیڈا کے دورے کے دوران ایک جرنلسٹ نے سوال کیا کہ آجکل کے مسائل کا تم کیا حل پیش کرتے ہو ؟ میں نے اسے کہا کہ تم دنیا والے اور دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے زعم میں مسائل حل کرنے اور دنیا میں امن قائم کرنے اور شدت پسندی کو روکنے کے لئے اپنی تمام کوششیں کر بیٹھے ہو لیکن مسائل وہیں کے وہیں ہیں۔ایک جگہ کچھ کمی ہوتی ہے تو دوسری جگہ شعلہ بھڑک اٹھتا ہے۔وہاں سے قابو پانے کی کوشش کرتے ہو تو پہلی جگہ فساد برپا ہو جاتا ہے۔تمام دنیاوی کو ششیں تو ان فسادات کو ختم کرنے کے لئے بروئے کار لائی جاچکی ہیں، استعمال ہو چکی ہیں، صرف ایک کوشش ابھی نہیں ہوئی اور وہ اسلامی تعلیم کی روشنی میں اس کا حل ہے۔اس پہ وہ خاموش تو ہو جاتے ہیں لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ بد قسمتی سے مسلمان ممالک نے بھی اسلام کا نعرہ تو لگایا ہے لیکن جو خدا تعالیٰ نے تعلیم دی ہے اور جو اسلام چاہتا ہے اور جس کا اسوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اس پر عمل نہیں کیا، نہ