خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 608
خطبات مسرور جلد 14 608 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2016 کے عین مطابق ہے اور امن کا ضامن ہے۔اور کہتے ہیں میرے خیال میں مسجد کا افتتاح اور امام جماعت احمد یہ کا دورہ اس پورے علاقے کے لئے علم میں اضافے کا باعث ہو گا اور لوگوں کے سامنے اسلام کا خوبصورت چہرہ پیش کیا جائے گا۔پھر کہتے ہیں کہ آج کے خطاب میں امام جماعت احمدیہ نے ان تمام منفی تصورات کا جواب دیا جو لو گوں کے دلوں میں اسلام اور مسجد کے بارے میں آسکتے ہیں۔مسجد کا افتتاح ایک نہایت مثبت قدم ہے اور ہماری مذہبی آزادی کی اقدار کے عین مطابق ہے۔میں نے یہ بتایا ہے کہ ان کا تعلق ہے۔لاہور میں دارالذکر اور ماڈل ٹاؤن کی جو شہاد تیں ہوئی تھیں اس وقت یہ منسٹر تھے۔سب سے پہلے ان کا مجھے تعزیت کا فون آیا تھا اور اس کے بعد انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ ہم شہداء کی فیملیوں کو کینیڈا میں آباد کرنے کی کوشش کریں گے اور اس لحاظ سے انہوں نے وعدہ پورا بھی کر دیا۔اللہ کے فضل سے تقریباً تمام شہداء کی فیملیاں وہاں جاچکی ہیں۔تقریب میں شامل ایک مہمان جان گورملے (John Gormley) جو ریڈیو پر ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔کہتے ہیں کہ مسجد کے کردار کے حوالے سے بہت سے اہم نکات پیش کئے ہیں۔پھر میرے حوالے سے بات کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ مسجد صرف عبادت ہی کے لئے نہیں ہے بلکہ ہیومینٹی کے جمع ہونے کی بھی جگہ ہے اور جماعت احمد یہ اس حوالے سے بہت کام کر رہی ہے۔جب بھی کوئی دہشتگردی کا واقعہ ہو تا ہے تو جماعت احمدیہ ہی سب سے پہلے آپس کے تعلقات بڑھانے اور مختلف مذاہب کو اکٹھا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ پیغام بھی دیا کہ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔یہ اسلام کی تعلیم ہے۔جماعت احمدیہ کے لوگ پوری طرح معاشرے کا حصہ ہیں اور جہاں کہیں بھی آباد ہیں وہاں بھر پور طور پر لوگوں میں گھل مل گئے ہیں۔جہاں بھی جماعت کے لوگ ہیں وہ وہاں کی کمیونٹی کو مضبوط کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔پھر اس کے بعد کیلگری بڑا شہر ہے وہاں جماعت بھی بڑی ہے اور ہماری مسجد بھی بہت بڑی اور خوبصورت ہے۔وہاں 11 نومبر کو جمعہ کے بعد پیس سمپوزیم تھا۔اس میں تقریباً 644 مہمانوں نے شرکت کی اور ان مہمانوں میں کینیڈا کے سابق وزیر اعظم بھی شامل ہوئے جو ابھی چند مہینے پہلے وزارت عظمیٰ سے ہٹے ہیں اور نئے وزیر اعظم آئے ہیں۔البرٹا کے منسٹر برائے ہیومن سروسز شامل ہوئے۔کیلگری کے سابق اور موجودہ میئر شامل ہوئے۔سابق وزیر Jason Kenney جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے وہ بھی وہاں آئے۔یونیورسٹی آف کیلگری کے ڈین اور وائس چانسلر بھی آئے۔بعض قریبی علاقوں کے میئرز اور ڈپٹی میئر ز بھی آئے۔ریڈ ڈیئر (Red Dear) کالج کے پریذیڈنٹ، legislative assembly کے ممبران اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہوئے اور چھ سو سے اوپر کی حاضری تھی۔پڑھے لکھے لوگوں کی اچھی gathering تھی۔