خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 607 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 607

خطبات مسرور جلد 14 607 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2016 سے سلوک کی جو اسلامی تعلیم ہے اس کا بھی میں نے وہاں ذکر کیا تھا اس کی طرف ان کا اشارہ ہے۔پھر کہتے ہیں کہ نہایت ضروری ہے کہ ایک ایسی جماعت مسجد بنائے جو اسلام کی حقیقی تعلیم کو پھیلانے والی ہو کیونکہ کاٹون(Saskatchewan) کے تمام لوگ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہیں اور سب کو ایک دوسرے سے احترام اور رواداری کا سلوک اختیار کرنا چاہئے۔پھر کاٹون (Saskatchewan) کے لیڈر آف اپوزیشن Trent Weatherspoon کہتے ہیں کہ آج ایک خوبصورت اجتماع تھا۔امام جماعت احمدیہ کا پیغام طاقتور اور ضروری پیغام تھا جس نے ہمارے مذاہب میں قدر مشترک باتوں کی نشاندہی کی۔ہمیں بتایا کہ کینیڈا کے احمدی انسانیت کو ترجیح دینے کے عقیدے کو فوقیت دیتے ہیں۔امام جماعت احمدیہ کا پیغام کہ ہم دوسروں کے لئے وہی پسند کریں جو ہم اپنے لئے پسند کرتے ہیں ہم سب کے لئے اہم ہے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ پیغام یہ تھا کہ باہمی رواداری اور امن قائم ہو۔امام جماعت نے ان اقدار کی نشاندہی کی جس پر ہم سب کو چلنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ اقدار نہ صرف ہمارے شہر رجائنا یا ہمارے صوبے سسکاٹون (Saskatchewan) کو مضبوط کرنے کے لئے بلکہ ہمارے ملک اور ہماری دنیا کو مضبوط کرنے کے لئے ہیں۔پھر رجائنا میں رجائنا کی مسجد کے افتتاح کے بعد جو میڈیا کوریج ہوئی، اس میں مختلف ٹی وی اور اخباروں کے ساتھ پر یس کا نفرنس بھی ہوئی اور انفرادی انٹرویو بھی ہوئے اور ٹی وی، ریڈیو، اخبارات اور پریس کے ، مختلف میڈیا کے تقریباً چھ سات لوگ تھے۔اس طرح رجائنا کی اس مسجد کے افتتاح کی وجہ سے اور پر یس کا نفرنس کے نتیجہ میں جو خبریں آئیں ان سے تقریباً 1۔97 ملین لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچا۔اسی طرح وہاں رجائنا کے بعد لائڈ منسٹر "مسجد بیت الامان " کا افتتاح ہوا۔وہ چھوٹی سی جگہ ہے اور زیادہ تر تیل کا کاروبار کرنے والے لوگ وہاں جاتے ہیں۔49 غیر از جماعت مہمانوں نے شرکت کی جس میں کاٹون(Saskatchewan) کی legislative assembly کے ممبر اور سابق ممبران پارلیمنٹ، نئے منتخب شدہ میئر ، قریبی علاقوں کے میئرز، ڈپٹی میئرز، کونسلر، پروفیسر ز ، ٹیچرز، صحافی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔سابق منسٹر برائے امیگریشن اینڈ ڈیفینس Jason Kenney ان کے ہمارے پرانے تعلقات ہیں۔جماعت سے اور مجھ سے بھی ذاتی طور پر ان کا کافی تعلق ہے۔وہ بھی وہاں آئے ہوئے تھے اور کہتے ہیں کہ جماعت احمد یہ ایک چھوٹی جماعت ہے لیکن بہت بڑھ چڑھ کر کام کرتی ہے اور اسلام کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے۔اس وقت جو دنیا کے حالات ہیں اور انتہا پسندی کے بارے میں غلط تصورات ہیں کہ اسلام انتہا پسندی کی اجازت دیتا ہے ایسی صور تحال میں جماعت احمد یہ ایک اکسیر کی سی حیثیت رکھتی ہے۔یہ وہ اسلام ہے جو کینیڈا کی تہذیب