خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 606 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 606

خطبات مسرور جلد 14 606 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2016 پھر ایک پادری صاحب کہتے ہیں کہ جو باتیں قرآن کریم سے پیش کیں وہ نہایت آسان زبان میں سمجھ آگئیں اور یہ بات خاص طور پر مجھے پسند آئی کہ دنیا میں جو مختلف جنگیں ہو رہی ہیں وہ کسی خاص طاقت کی مدد یا اس کی سر پرستی میں ہو رہی ہیں اور اگر بڑی حکومتیں امداد کرنا چھوڑ دیں تو یہ سب کچھ ختم ہو سکتا ہے۔پھر ہم سکاٹون(Saskatchewan) گئے تھے۔وہاں بھی کچھ پر یس کا نفر نسیں ہوئیں۔جماعتی پروگرام بھی تھے۔غیروں کے ساتھ پروگرام تو نہیں تھا لیکن وہاں بھی مختلف ریڈیو اور پریس کے ذریعہ سے مجموعی طور پر تقریباً1۔78 ملین لوگوں تک پیغام پہنچا۔پھر مسجد محمودرجائنا کا افتتاح تھا۔وہاں بھی جمعہ کے بعد شام کو مسجد کے حوالے سے ہی ایک ہوٹل میں ریسیپشن تھی جس میں دو سو مہمان شامل ہوئے۔اس میں کاٹون (Saskatchewan)صوبہ کے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ، رجائنا سٹی کے میئر، منسٹر برائے پبلک سیفٹی، اپوزیشن کے ڈپٹی ہاؤس لیڈر، قریبی شہروں کے موجودہ اور سابق میئرز، یونیورسٹی آف سکاٹون کے صدر اور نائب صدر، یونیورسٹی آف رجائنا کے ریلیجس سٹڈیز کے ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ، پروفیسرز، پادری، پولیس چیف اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مہمان شامل ہوئے۔مذاہب عالم کے ایک پروفیسر صاحب رجائنا کی مسجد کے افتتاح کے موقع پر ایڈریس سننے کے بعد کہتے ہیں کہ نہایت پر معارف اور دلکش خطاب تھا۔ان تمام خطابات میں سے نمایاں تھا جو میں نے مذاہب عالم کے پروفیسر کے طور پر سنے ہیں۔امام جماعت کی جو بات مجھے بہت اچھی لگی وہ آپ کا واضح اور قابل عمل پیغام تھا کہ اگر دنیا میں سب امن چاہتے ہیں تو یہ ان غریبوں کو نظر انداز کر کے نہیں حاصل ہو سکتا جو تکالیف میں مبتلا ہیں۔میرے خیال میں یہ پیغام بہت ہی واضح تھا۔پھر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں موجودہ حالات کے پیش نظر جبکہ دنیا کے مسائل کے اسلامی حل پر لوگ کچھ غلط فہمیوں میں الجھے ہوئے ہیں، ان کا پیغام بہت ضروری ہے یعنی جو میں نے کہا۔کہتے ہیں کہ انہوں نے ان خدشات کو دور کرنے کا ذمہ لیا اور ان کا پیغام ہمارے اس ملٹی کلچرل اور ملٹی ریلیجس سوسائٹی میں باہمی تعاون ، اتفاق اور احترام کو تر و یج دینے کے لئے بہت اہم تھا۔پھر لیجسلیٹو اسمبلی سکاٹون ( Saskatchewan) کے ممبر پال میری مین (Paul Merryman) ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ سیاسی اور دنیاوی فنکشنز مختلف ہوتے ہیں۔وہاں پر لوگ زور لگا کر اپنے خیالات کو ظاہر کرتے ہیں اور لوگوں پر اثر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن امام جماعت احمدیہ میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی۔مجھے لگا کہ وہ بہت ہی محبت سے اپنی طرف بلا رہے ہیں اور سب سے محبت کرنے کے لئے تیار اور مستعد ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ مذہب اور روحانیت اصل میں اسی بات کا نام ہے یعنی اپنے ہمسایوں سے محبت کرنا اور دوسروں کی مدد کرنا۔ہمسایوں