خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 605
خطبات مسرور جلد 14 605 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2016 مذہب کے ماننے والے کو ان کے حقوق دیئے اور توجہ دلائی کہ بحیثیت انسان ہم سب ایک ہیں۔پھر تیسرا فنکشن پارک یونیورسٹی میں ہوا۔اور اس پارک یونیورسٹی کا شمار کینیڈا کی بڑی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔اس میں گیارہ فیکلٹیز ہیں اور اس کا جو مین کیمپس ہے اس میں ترتین (53) ہزار سے زائد طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اس یونیورسٹی میں اساتذہ کی تعداد سات ہزار کے قریب ہے۔اس یونیورسٹی سے اب تک تین لاکھ کے قریب طلباء تعلیم سے فارغ ہو چکے ہیں۔میں نے چانسلر سے پوچھا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ کینیڈا کی تیسری بڑی یونیورسٹی ہے۔اس تقریب میں ایک دوست شامل ہوئے کیٹ کورئیر (Cat Courier) صاحب جو یونیورسٹی آف ٹورانٹو کے Indigenous ایلڈر ممبر ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ آج کا دن ایک تحفہ تھا۔ایسی باتیں سن کر بہت لطف آیا کہ ہم سب مل کر دنیا کے امن کے لئے کام کر رہے ہیں جو پرانے مقامی لوگ ہیں ان لوگوں کے بھی حقوق مارے گئے ہیں۔کم از کم یہ ان کا خیال ہے کہ حکومت کو جو ہمارے ساتھ کرنا چاہئے تھا، ان کا وہ حق ادا نہیں ہو رہا۔تو کہتے ہیں کہ جو بات مجھے خاص طور پر پسند آئی وہ یہ تھی کہ امام جماعت احمدیہ نے جو کچھ بھی کہا وہ دل کی گہرائی سے کہا۔جب کوئی سچائی کی باتیں دل سے کرتا ہے تو ہمیشہ یاد گار رہتی ہیں۔وہ دنیا کی دوسری طرف سے آکر وہی پیغام پیش کر رہے ہیں جسے ہم پسند کرتے ہیں۔اور پھر اسی طرح ایک طالبہ شیرل کریں (Sheryl Cress ) جو تھیں۔یہ کہتی ہے کہ بہت اچھا موقع تھا جس میں ہم سب کو اسلام کی بعض حقیقی تعلیمات کا پتا لگا۔اب مجھے اسلام کا کچھ علم حاصل ہو گیا ہے۔اب میں صرف گمان پر نہیں چل رہی بلکہ امام جماعت نے امن کے حوالے سے خوب اچھی باتیں کی ہیں۔یہ باتیں خاص طور پر تعریف کے لائق ہیں کہ امام جماعت نے سمجھایا کہ ہم میں بہت ساری باتیں تعلیمات کے حوالے سے ملتی جلتی ہیں اور یہ مجھے بہت اچھا لگا کہ ہماری اور آپ کی یعنی جماعت کی بنیادی اقدار ایک ہی ہیں۔ایک دوسری یونیورسٹی کے جرنلزم ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر نے اپنے سارے سٹوڈنٹ وہاں لیکچر سننے کے لئے بھیجے ہوئے تھے۔ایک خاتون صحافی یوسر البارانی (Yousar Albrani) کہتی ہیں کہ یہ بات مجھے بہت پسند آئی کہ امام جماعت نے آپس میں صلح کے ساتھ رہنے کے بارے میں بتایا۔ایک جر نلسٹ ہونے کے لحاظ سے میں اکثر امن اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں لکھتی ہوں۔لیکن جب ایک مذہبی لیڈر اس بارے میں بات کرے تو وہ ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔امام جماعت نے بڑی وضاحت سے اسلامی دنیا کے مسائل کو بیان کیا کہ ان کے پیچھے دوسری حکومتوں کا ہاتھ ہے۔یہ سن کر بہت اچھا لگا کہ امام جماعت جب دنیا کے حالات کے بارے میں پڑھتے ہیں تو انہیں دکھ ہوتا ہے۔