خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 39
خطبات مسرور جلد 14 39 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2016 مسلمان بھی عموماً اپنے معاملات میں عملاً اللہ کے توکل کے نام پر محنت نہیں کرتے یا غلط قسم کے استنباط کرنے لگ جاتے ہیں۔اس لئے عموما نوجوانوں کے ذہنوں میں یہاں بھی یہ سوال اٹھتے رہتے ہیں کہ ترقی یافتہ قومیں خدا سے دور جا کر شاید ترقی کر رہی ہیں اور مسلمان مذہب کی وجہ سے انحطاط کا شکار ہو رہے ہیں۔جبکہ حقیقتا مسلمان اپنے نکتے پن اور توکل کے غلط تصور کی وجہ سے اپنی ساکھ کھو بیٹھے ہیں اور کمزوری کا شکار ہو رہے ہیں اور جہاں کچھ کرتے ہیں وہاں بھی ان کی بالکل غلط approach ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیت ہے کہ وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُم وَمَا تُوعَدُونَ۔(الذاريات: 23) اور آسمان میں تمہارا رزق بھی ہے اور جو کچھ وعدہ کیا جاتا ہے وہ بھی ہے۔فرمایا اس سے ایک نادان دھو کہ کھاتا ہے اور تدابیر کے سلسلے کو باطل کر دیتا ہے۔مسلمان سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے وہ ملے گا۔اس لئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالیٰ خود ہی سب کچھ بھیج دے گا۔فرمایا حالانکہ سورہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ ( الجمعة : 11) تم زمین میں منتشر ہو جاؤ اور خدا کے فضل کو تلاش کرو اور خدا کا فضل تلاش کرنا یہی ہے کہ محنت کرو اور اپنے قویٰ کو استعمال میں لاؤ۔فرمایا کہ یہ نہایت نازک معاملہ ہے کہ ایک طرف تدابیر کی رعایت ہو، دوسری طرف تو کل بھی پورا ہو۔فرمایا اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ تدابیر بھی پوری ہوں۔جو اسباب ہیں ظاہری ان کو بھی پوری طرح کرو اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرو۔یہ حقیقی مومن کی نشانی ہے اور فرمایا کہ اس کے اندر شیطان کو وساوس کا بڑا موقع ملتا ہے۔یعنی تدابیر کرنا اور اللہ پہ توگل کرنا ان دونوں چیزوں کے درمیان جو فرق ہے بڑا ضروری ہے اور دونوں چیزیں کرنی انتہائی ضروری ہیں اور شیطان ان دونوں کے بیچ میں آ کے رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے، ایمان خراب کرتا ہے۔اس لئے اس بات کا خیال رکھو۔فرمایا کہ بعض لوگ ٹھو کر کھا کر اسباب پرست ہو جاتے ہیں اور بعض لوگ خدا کے عطا کردہ قویٰ کو بریکار محض خیال کرنے لگ جاتے ہیں۔فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کو جاتے تو تیاری کرتے تھے۔گھوڑے ہتھیار بھی ساتھ لیتے تھے۔بلکہ آپ بعض اوقات دو دو زر ہیں پہن کر جاتے تھے۔تلوار بھی کمر سے لٹکاتے تھے۔حالانکہ ادھر خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة: 68)۔اور اللہ تجھے لوگوں کے حملوں سے محفوظ رکھے گا۔پس تدبیر پوری کر کے پھر تو گل کا حکم ہے۔اسی طرح ہر معاملے میں محنت کر کے پھر تو گل کا حکم ہے۔اس کے بغیر خدا تعالیٰ کی مدد نہیں آتی۔ایک الہام اور اس کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔