خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 38 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 38

خطبات مسرور جلد 14 38 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2016 چاہئے تھا اس کی کیا وجہ تھی ؟ بہر حال یہ جلد بازیاں ہی ہیں جو پھر غلط قسم کی بدعات بھی پیدا کر دیتی ہیں۔غلط قسم کی خود ہی تفسیر میں کر کے انسان خود غلط نتائج اخذ کر لیتا ہے۔ایک خانہ خدا کے لئے بھی۔۔۔۔اب ایک اور واقعہ توکل کے حوالے سے بیان کرتا ہوں۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنے ہوئے ایک واقعہ کا ذکر فرماتے ہیں۔فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک بات میں نے بارہا سنی ہے۔آپ ترکیہ کے سلطان عبد الحمید خان کا جو معزول ہو گئے تھے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ سلطان عبد الحمید خان کی ایک بات مجھے بڑی ہی پسند ہے۔جب یونان سے جنگ کا سوال اٹھا تو اس سلطان کے وزراء نے بہت سے عذرات پیش کئے۔دراصل سلطان عبد الحمید خان کا منشاء تھا کہ جنگ ہو، مگر وزراء کا منشاء نہیں تھا اس لئے انہوں نے بہت سے عذرات پیش کئے۔آخر انہوں نے کہا کہ جنگ کے لئے یہ چیز بھی تیار ہے اور وہ چیز بھی تیار ہے لیکن اہم چیز کا ذکر کر کے کہہ دیا کہ فلاں امر کا انتظام نہیں ہو سکا جو جنگ کے لئے ضروری ہے۔وزراء یہ مشورے دے رہے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں مثلاً یوں سمجھ لو کہ انہوں نے کہا اور غالباً یہی کہا ہو گا کہ تمام یورپین طاقتیں اس وقت اس بات پر متحد ہیں کہ یونان کی امداد کریں اور اس کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جب وزراء نے اپنا مشورہ پیش کیا اور مشکلات بتائیں اور کہا کہ فلاں چیز کا انتظام نہیں تو سلطان عبد الحمید نے جواب دیا کہ کوئی خانہ تو خدا کے لئے بھی چھوڑنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سلطان عبد الحمید کے اس فقرے سے بہت ہی لطف اٹھاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اس کی یہ بات بہت ہی پسند ہے۔تو مومن کے لئے اپنی کوششوں میں سے ایک خانہ خدا کے لئے بھی چھوڑنا ضروری ہوتا ہے۔اور در حقیقت سچی بات یہ ہے کہ مومن کبھی بھی ایسے مقام پر نہیں پہنچتا بلکہ دراصل کوئی شخص بھی ایسے مقام پر نہیں پہنچتا جب وہ کہہ سکے کہ اب کوئی رستہ کمزوری کا باقی نہیں رہا اور ہر چیز میں ایک پرفیکشن (perfection) پید اہو گئی ہے۔اگر کوئی انسان کہے کہ میں اپنا کام ایسا مکمل کر لوں کہ اس میں کوئی رخنہ اور سوراخ باقی نہ رہے تو یہ حماقت ہو گی۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں مگر اسی طرح یہ بھی حماقت ہے کہ انسان اسباب کو بالکل نظر انداز کر دے کہ ظاہری چیزوں کا انتظام نہ کرے۔آپ نے فرمایا کہ اس وقت یورپین قومیں پہلی حماقت میں مبتلا ہیں یعنی خدا کا خانہ بالکل چھوڑ دیا ہے اور مسلمان دوسری حماقت میں۔تو کل اور تدبیر (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 542) کہ غلط قسم کا تو گل کر کے ہاتھ پیر ہلانے چھوڑ دیئے ہیں۔عموماً مغربی قومیں خدا کو بھول گئی ہیں اور