خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 604
خطبات مسرور جلد 14 604 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2016 presbyterian church کے پادری پیس سمپوزیم سن کے کہتے ہیں کہ آج امام جماعت کے خطاب سے مجھے بڑا اثر ہوا کیونکہ یہ پیغام امن، محبت اور امید کا پیغام تھا جس کا رنگ و نسل، شرق و غرب یا کسی خاص وقت یا جگہ سے تعلق نہیں بلکہ تمام دنیا کے لئے تھا۔اس خطاب کی اہمیت یہ بھی ہے کہ دنیا میں بہت سی غلط فہمیاں اور خوف و ہر اس پھیلا ہوا ہے۔لیکن آج کے پیغام میں یہ بات واضح تھی کہ ہمارے درمیان مشترک چیزیں زیادہ ہیں اور اختلاف کی باتیں کم۔یہ ایک بہت بڑی خوشخبری ہے جسے لوگوں کو سننے کی ضرورت ہے۔ایک مہمان گریگ کینیڈی (Greg Kennedy) جن کی بہن نے حال ہی میں اسلام قبول کیا ہے، کہتے ہیں کہ میں آج اپنی بہن کے ساتھ آیا ہوں کیونکہ اس نے ماضی قریب میں اسلام قبول کیا ہے اور ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ جماعت احمدیہ کی کیا تعلیمات ہیں اور امام جماعت کا پیغام سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ میری بہن اتنی محبت کرنے والے اور ساتھ دینے والے اور لوگوں کی خدمت کرنے والے لوگوں میں شامل ہوئی ہے۔جو باتیں میں نے آج سیکھی ہیں میں ان سے بہت خوش ہوں۔اس پیس سمپوزیم میں بھی میں نے امن کے ساتھ جماعت کی دنیا میں جو خدمات ہیں ان کا بھی ذکر کیا تھا۔اسی طرح ایک محمد الحلاواجی (Muhammad al halawaji) صاحب جو پارلیمنٹ میں تھے اور نائل ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ آج کا پیغام نہایت واضح تھا کہ ہم سب کو محبت کے ساتھ رہنا چاہئے اور ہمیں کسی سے نفرت کی ضرورت نہیں ہے۔اگر ہم ایک دوسرے سے نفرت کرتے رہیں گے تو امن قائم نہیں ہو سکتا۔کہتے ہیں کہ جب میں نے پارلیمنٹ میں امام جماعت کا خطاب سنا تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ پارلیمنٹ میں اس طریق پر کوئی مسلمان رہنما اس طرح خطاب کر سکتا ہے۔خوف کی کوئی جھلک نظر نہیں آئی اور نہایت نڈر طریق پر اپنی تقریر کی اور لوگوں کو یقین ہو گیا کہ یہی اسلام کا صحیح اور سچا پیغام ہے۔جو جنگیں ہو رہی ہیں ان کے پیچھے کچھ لوگ ہیں جو اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اور پھر کہتے ہیں آج کے خطاب میں بھی " محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں" کے حوالے سے بات کی اور یہی ہمارالائحہ عمل ہونا چاہئے اور یہی سچ ہے۔پھر زمیتا (Zumita) کمیٹی کے ممبر ابو یوسف صاحب ہیں۔کہتے ہیں آج جو میں نے سنا اور دیکھا اس سے میں بہت متاثر ہوا۔امام جماعت نے اپنے خطاب میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی مثالیں پیش کیں اور ہمیں توجہ دلائی کہ ہمیں ان پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔امام جماعت احمدیہ نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے یہ بھی ثابت کیا کہ انہوں نے جبراً کبھی بھی کسی کو اسلام میں داخل نہیں کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح تمام انسانیت کی خدمت کی۔قرآن کریم کے حوالے سے بھی اسلامی تعلیم پر روشنی ڈالی جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے۔لا اکراہ فی الدین۔اور کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائی، یہودی، ہند و یا کسی بھی