خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 603 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 603

خطبات مسرور جلد 14 603 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2016 جذبات کو بھی ٹھیس نہ پہنچے۔پھر ایک مہمان گارنیٹ جینس (Garnett Genuis) کہتے ہیں کہ پیغام بہت اچھا تھا کہ کس طرح مذہب اور مذہبی رہنما معاشرے میں قیام امن اور عصر حاضر کے مسائل حل کر سکتے ہیں۔یہ بات بھی اجاگر کی کہ کس طرح اسلحہ کی خرید و فروخت کو کنٹرول کر کے ہم ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہ سکتے ہیں۔کہتے ہیں کہ عموماً ہم ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہتے ہیں لیکن امام جماعت نے وضاحت کی کہ کس طرح مغرب اور دوسرے ممالک اپنے اپنے کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کی حالت بہتر بنا سکتے ہیں۔ایک سکھ مہمان نے کہا کہ ایک مغربی پارلیمنٹ میں آکر کہا کہ دنیا کی بے چینی میں مغربی ممالک کا بھی ہاتھ ہے۔مثلاً انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جو اسلحہ مغربی ممالک بیچتے ہیں وہ دہشت گردوں کے ہاتھ میں کیسے پہنچ جاتا ہے۔اس بات کو بھی واضح کیا کہ جو کینیڈین لوگ دہشتگردی کے لئے جاتے ہیں ان میں سے ہیں فیصد خواتین ہوتی ہیں اور وہ آنے والی نسلوں کو بھی اس رنگ میں رنگین کر دیں گی۔کہتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا۔کہتے ہیں یہ بات بھی مجھے اچھی لگی کہ انہوں نے قرآن کے حوالے سے بھی بات کی کہ ہمیں اپنے عہد اور امانتیں پوری کرنے کی ضرورت ہے اور بڑے خوبصورت انداز میں یہ کہا کہ حکومت بھی ایک امانت ہے اور حکومتی عہدیداران کو اپنے ان عہدوں کو کما حقہ ادا کرنا چاہئے۔پھر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امام جماعت نے یہ بھی کہا کہ مسلمان علماء نے عوام کو گمراہ کیا ہے اور اس وجہ سے فساد میں اضافہ ہو رہا ہے۔مغربی ممالک کو بھی چیلنج کیا کہ وہ اس بات کے دعویدار ہیں کہ وہ آزادی ضمیر اور آزادی حقوق کو قائم کرتے ہیں۔اس لئے اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ان دعووں پر عمل کر کے دکھائیں اور مذہبی امور میں مداخلت نہ کریں جیسے حجاب پر پابندی یا عبادتگاہوں پر پابندی۔کہتے ہیں بڑے عمدہ طریقے سے مغرب کو توجہ دلائی۔یہ چند مثالیں میں نے دی ہیں۔اس طرح کے بیشمار تبصرے منسٹروں کے بھی اور دوسروں کے بھی تھے۔اسی طرح پارلیمنٹ ہل میں جو فنکشن تھا اس کی جو میڈیا کوریج ہوئی۔ایک تو پہلے خود وزیر اعظم صاحب نے اپنے ٹویٹ اکاؤنٹ پر لکھا کہ مجھے آج آٹو میں جماعت احمدیہ کے خلیفہ مرزا مسرور احمد سے مل کر خوشی ہوئی اور کر ساتھ انہوں نے تصویر بھی دی اور پھر یہ ٹویٹ چلتی رہی۔اسی طرح اس سارے فنکشن کی خبر کی اخباروں کے ذریعے سے جو کوریج تھی یہ مختلف ذریعوں سے تقریباً ساڑھے چار ملین افراد تک پہنچی ہے۔اسی طرح ٹورانٹو میں ایوان طاہر میں ایک پیس سمپوزیم تھا جس میں 614 غیر از جماعت اور غیر مسلم مہمان شامل ہوئے جن میں مختلف علاقوں کے میئرز، کو نسلرز، اخبارات کے صحافی، ڈاکٹرز، پروفیسر ز، ٹیچر ز، وکلاء اور زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔