خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 602
خطبات مسرور جلد 14 602 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2016 ہے۔آپ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ مذہبی معاملات میں برداشت ہونی چاہئے اور یہ کہ جارحیت کا نتیجہ مزید جارحیت ہی ہوتا ہے۔اگر ہم بر داشت جیسی ایک صفت کو ہی اختیار کر لیں تو ہم ایک بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔کہتے ہیں کہ میر اخیال تھا کہ امام جماعت احمد یہ یہاں آئیں گے اور رسمی قسم کی باتیں کر کے چند الفاظ شکر گزاری کے ادا کر کے بیٹھ جائیں گے۔لیکن جو خطاب ہوا تو کہتے ہیں کہ شاید ہی میں نے اس سے بہتر کوئی ایڈریس سنا ہو۔انہوں نے تمام مسائل پر روشنی ڈالی جن کا تمام دنیا کو سامنا ہے۔جیسے آب و ہوا میں تبدیلی، اقتصادی مسائل، خانہ جنگی۔بنیادی وجہ نا انصافی بھی بیان کیا۔دور حاضر کے مسائل کے حل بھی بیان کئے۔اور یہ بھی کہا کہ مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔یہ بھی کہا کہ اسلحے کی خرید و فروخت نہیں ہونی چاہئے جو مغربی ممالک کرتے ہیں۔کہتے ہیں مجھے اس پروگرام میں شامل ہو کر بے حد خوشی ہوئی کہ کسی امن پہ بات کرنے والے کو سنا۔کہتے ہیں یہ جس طرح تمام دنیا کو اسلام سے متعارف کرارہے ہیں یہی اصل طریقہ ہے۔جرمن سفیر ور نروینٹ (Werner Wnendt) نے کہا کہ امام جماعت احمدیہ نے مستقبل کی تصویر کشی کی ہے۔ہم سب بھی ایسا ہی پر امن مستقبل چاہتے ہیں۔ان کے خطاب سے ہمیں پتا چلا کہ اسلام پر امن مذہب ہے اور ہم سب یورپ میں آنے والوں کے ساتھ مل کر رہ سکتے ہیں۔اس تقریر کا سب سے اہم پیغام یہ تھا کہ ہم سب کو دنیا کی بہتری کے لئے کوشش کرنی ہو گی اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ عوام الناس کو انفرادی طور پر اپنی زندگیاں گزارنے کی اجازت ہو۔یہ بھی میں نے کہا تھا کہ حکومتوں کو مذہب کے معاملے میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیئے اور بھی بعض مسائل ہیں حجاب ہے یا مسجدیں ہیں تو اس قسم کی چیزوں کے بارہ میں یورپ میں سوال اٹھتے رہتے ہیں۔یہ ایسے سوال ہیں جو فتنہ پیدا کریں گے۔اسی طرح ایک چیف امام اور سکالر محمد جبار جو غالباً کسی عرب ملک سے ہیں۔وہاں ایک مسجد کے امام ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں ایک سنی امام ہوں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ اس تقریر نے دنیا میں قیام امن کی بنیاد رکھی ہے۔اس تقریر کی آج دنیا کو اشد ضرورت ہے۔امام جماعت کی تقریر حکمت سے پر تھی کیونکہ آپ نے کسی ایک فریق پہ الزام نہیں لگایا بلکہ یہ کہا کہ دنیا کی بے چینی تمام گروہوں کی کمزوریوں کی وجہ سے ہے۔ہمیں اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو قبول کرنا چاہئے اور پھر بہتری کی طرف قدم اٹھانا چاہئے۔اس میں آپ نے اس اسلامی تعلیم کی طرف توجہ دلائی کہ کوئی انسان غلطیوں سے پاک نہیں ہے۔کہتے ہیں بڑا اچھا خطاب تھا اور وہ سب مضمون بیان ہوئے جن کی ضرورت تھی اور قانون ساز لوگوں کو متبادل حل بھی بتائے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ اسلامی نظریے کو نہایت خوبصورت رنگ میں پیش کیا اور بہت سے مشکل پہلوؤں کو اس خوبصورت انداز میں بیان کیا کہ لوگوں کے