خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 601 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 601

خطبات مسرور جلد 14 601 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2016 ہر ایک نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق بیچ میں سے پوائنٹ نکالے اور تبصرے بھی کئے۔اسی طرح اسرائیلی سفیر بھی وہاں موجود تھے۔یہ کہتے ہیں کہ امن کے لئے اہم پیغام تھا اور یہ کہ تمام مذاہب کو کس طرح ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہئے۔کہتے ہیں کہ آج اسلام کے بارے میں میری سوچ بدل گئی ہے اور اس کی قدر دانی بھی بڑھ گئی ہے۔اس خطاب کو شائع کرنا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا چاہئے۔اور اگر لوگ اس پیغام کی پیروی کریں تو دنیا کے گھمبیر سے گھمبیر مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں۔مجھے اس خطاب میں برداشت کا پہلو بہت پسند آیا اور یہ کہ تمام لوگوں کے حقوق ادا کئے جانے چاہئیں، چاہے وہ مسلمان ہوں یا یہودی ہوں، سب کے حقوق ادا ہونے چاہئیں۔پھر سینیئر امیگریشن حج اور وہاں جو سر ظفر اللہ خان ایوارڈ دیا جاتا ہے، اس سال اس کے حاصل کرنے والی لوکس آربر (Louise Arbour) نے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہایت صاف زبان میں امام جماعت نے ہماری کمیوں اور کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی اور ساتھ ساتھ مغربی معاشرے کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی اور یہ کہ بعض دفعہ ان کے عملوں میں منافقت نظر آتی ہے اور اقلیتوں کے حقوق ادا نہیں کرتے۔پھر ممبر پارلیمنٹ راج سینی (Raj Saini) نے کہا کہ اسلام کے بارے میں بتایا کہ امن پسند مذہب ہے اور جو مسلمان اس امن کے پیغام کی پیروی نہیں کرتے وہ سچے مسلمان نہیں۔اس طرح پارلیمنٹ کے ایک ممبر ماجد جو اہری ہیں۔غالباً کسی عرب ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ ہم نے آج پیغام میں سنا کہ دنیا میں قیام امن کس طرح ہو سکتا ہے ؟ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اس کو ہم نے مل جل کر حل کرنا ہے۔اور بھی بہت سے چیلنج ہیں جیسے معاشی بحران، دہشتگر دی۔ان سب کے لئے ہمیں سخت محنت اور مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔کرسٹی ڈنکن (Kirsty Duncan) صاحبہ ممبر پارلیمنٹ ہیں اور سائنس کی وزیر بھی ہیں۔یہ کہتی ہیں کہ ایک بات جو خاص طور پر میرے دل کو لگی وہ یہ ان سے ویسے بھی باتیں ہوتی رہی تھیں۔یہ ذاتی تبصرہ انہوں نے کیا کہ ایک بار جو دوست بن جائے وہ ہمیشہ کے لئے دوست ہو جاتا ہے۔خطاب میں کئی پہلو بیان کئے مثلاً عدل و انصاف، امن، نوجوان، اقوام متحدہ اور ہم سب کو مل کر انسانیت کی بہتری کے لئے کوشش کرنا۔کہتی ہیں کہ احمدیہ جماعت میرے لئے ایک مہربان فیملی کی طرح ہے۔اسی طرح ممبر پارلیمنٹ نکولاڈی اور یو ( Nicola Di Ionio) نے اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑی اچھی تقریر تھی جس میں تمام دنیاوی مسائل کو اختصار کے ساتھ پیش کیا۔آپ نے مذہب کے پس منظر میں دنیا کے مسائل پر روشنی بھی ڈالی۔جماعت احمد یہ ایک زبر دست جماعت ہے اور مذہبی تنظیموں کے لئے ایک مثال