خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 600
خطبات مسرور جلد 14 600 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 نومبر 2016 اب میں اگلے پروگرام کا ذکر کرتا ہوں۔جلسے کے بعد پہلا پروگرام آٹو میں ہوا جو اُن کا کیپیٹل ہے وہاں پارلیمنٹ میں تقریباً سارا دن پروگرام رہا۔مختلف مصروفیات رہیں۔لوگوں سے ملنا جلنا رہا۔وزیر اعظم سے علیحدہ ملاقات بھی ہوئی۔پھر ان کے کچھ وزراء کے ساتھ بڑے اچھے ماحول میں بیٹھ کے ملاقات ہوئی۔اور ان کا جو تعاون ہمیشہ جماعت کے ساتھ رہا ہے اس کا شکریہ بھی میں نے ادا کیا۔پھر وہاں پارلیمنٹ ہاؤس کے ایک ہال میں جو تقریب تھی اس میں وہاں کینیڈین گورنمنٹ کے چھ وزیر شامل ہوئے۔ستاون (57) نیشنل ممبران پارلیمنٹ شامل ہوئے۔گیارہ مختلف ممالک کے ایمبیسیڈرز شامل ہوئے اور امریکہ کی ایمبیسی کے فرسٹ سیکرٹری اور لیبیا کی ایمبیسی کے نمائندگان شامل ہوئے۔صوبہ اونٹاریو کے منسٹر بھی موجود تھے۔تیس سے زائد اہم شخصیات پروگرام میں شامل ہوئیں جس میں چیف آف سٹاف اور منسٹر ز شامل تھے۔پھر evangelical fellowship کے ڈائریکٹر تھے۔کینیڈین ریڈ کراس کے چیف کمیونیکیشن آفیسر شامل تھے۔آر۔سی۔ایم۔پی کے اسسٹنٹ کمشنر شامل تھے۔یونیورسٹی آف آٹوا کے اور کارلٹن یونیورسٹی (carleton university) کے پروفیسر شامل تھے۔بعض dean اور وائس پریذیڈنٹ بھی تھے۔کینیڈین کو نسل فار مسلم کے ڈائریکٹر شامل تھے۔یو ایس گورنمنٹ کے نمائندگان اور بعض think tank کے ممبر شامل تھے۔گویا وہاں ان لوگوں کی ایک بڑی اچھی gathering تھی جو اپنے آپ کو دنیا کے معاملات چلانے والا سمجھتے ہیں۔وہاں اسلام کی تعلیم کی روشنی میں بیان کرنے کا موقع ملا اور اسی طرح جو ان کا کردار ہے اور یہ لوگ جو دو عملی دکھاتے ہیں اس کو بھی میں نے واضح کیا کہ صرف مسلمانوں پہ الزام نہ دو بلکہ تمہارے اپنے جو کام ہیں ان کی طرف بھی دیکھو اور تم لوگوں کی وجہ سے بعض دفعہ دنیا میں بعض فساد پیدا ہوئے ہیں۔بہر حال بعد میں اس کے جو تاثرات تھے وہ پیش کرتا ہوں۔ممبر پارلیمنٹ ہیں جو ڈی سیگرو (Judi Sgro)۔انہوں نے کہا کہ امام جماعت کا یہ خطاب ان نصائح سے پر تھا کہ ہم کس طرح تیسری جنگ عظیم سے بچ سکتے ہیں۔یہ بالکل واضح تھا کہ ہمیں اس تباہی سے بچنے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون اور محنت کی ضرورت ہے۔یہ کہتی ہیں کہ یہ پیغام جو اس وقت دیا گیا۔یہ ساری دنیا تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔پھر ایک ممبر پارلیمنٹ کیون وا (Kevin Waug) ہیں۔انہوں نے کہا کہ مختصر الفاظ میں بہت سے عناوین پر روشنی ڈالی۔میں خاص طور پر اس بات سے متاثر ہوں کہ امام جماعت نے اپنے خطاب میں قرآن کریم کے بہت سے حوالہ جات پیش کئے۔یہ امر خاص طور پر مجھ جیسے شخص کے لئے جس کا دینی علم بہت کم ہے نہایت خوش کن تھا۔اس سے میرے علم میں بھی اضافہ ہوا۔