خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 37 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 37

خطبات مسرور جلد 14 37 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2016 مجھے اس بات کا بڑا صدمہ ہوا۔شیطان کہتا ہے کہ مجھے اس بات کا بڑا صدمہ ہوا کہ نماز سے محروم رکھنے پر تمہیں اور زیادہ ثواب مل گیا۔آج میں اس لئے جگانے آیا ہوں کہ آج بھی کہیں تم زیادہ ثواب نہ حاصل کر لو۔تو آپ فرماتے ہیں کہ شیطان تب پیچھا چھوڑتا ہے جب کہ انسان اس کی بات کا توڑ کرتا ہے، اس سے وہ مایوس ہو جاتا ہے اور چلا جاتا ہے۔(ماخوذ از ملائکتہ اللہ۔انوار العلوم جلد 5 صفحہ 552) پس ہمیں چاہئے کہ ہم بھی ہر موقع پر شیطان کو مایوس کریں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی حتی المقدور کوشش کریں اور اس کے حکموں پر چلنے کی کوشش کریں۔اپنی نمازوں کی حفاظت کریں اور وقت پر ادا کرنے کی کوشش کیا کریں۔بعض دفعہ بعض لوگ جلد بازی سے کام لیتے ہوئے کسی بات کی گہرائی میں جائے بغیر اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں اور پھر بعض کمزور طبائع اس وجہ سے ٹھو کر بھی کھا جاتی ہیں۔ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دعوت میں میں نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے پانی پینے سے روکا۔بائیں ہاتھ سے پانی پی رہا تھا۔میں نے اسے کہا کہ اگر کوئی جائز عذر نہیں ہے تو دائیں ہاتھ سے پانی پیو۔تو اس نے کہا کہ حضرت صاحب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی بائیں ہاتھ سے پانی پیا کرتے تھے۔حالانکہ حضرت صاحب کے ایسا کرنے کی ایک وجہ تھی اور وہ یہ کہ آپ بچپن میں گر گئے تھے جس سے ہاتھ میں چوٹ آئی تھی اور ہاتھ اتنا کمزور ہو گیا تھا کہ اس سے گلاس تو اٹھا سکتے تھے مگر منہ تک نہیں لے جاسکتے تھے۔مگر یہ نہیں کہ سنت کی پابندی نہیں کرتے تھے سنت کی پابندی کے لئے آپ کو بائیں ہاتھ سے گلاس اٹھاتے تھے مگر نیچے دائیں ہاتھ کا سہارا بھی دے لیا کرتے تھے۔(ماخوذ از الفضل 17 اگست 1922 ، صفحہ 3 جلد 10 نمبر (13) اپنے ہاتھ کی کمزوری کو خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ایک جگہ بیان فرمایا ہے۔فرمایا کہ ایک دفعہ میں کچھ غیروں کے سامنے احمدی نہیں تھے یا میرے مخالف تھے جو بحث کے لئے آئے ہوئے تھے میں نے گلاس یا پیالی چائے کی اٹھائی تو سامنے بیٹھے ہوئے غیر نے اعتراض کر دیا کہ آپ سنت پر عمل نہیں کرتے اور بائیں ہاتھ سے بر تن پکڑ کر پینے کی کوشش کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود فرماتے ہیں کہ جلد بازی نے اور بد ظنی نے اس کو اس پر مجبور کر دیا کہ مجھ پر اعتراض کرے۔حالانکہ میرا ہاتھ چوٹ کی وجہ سے کمزور ہے اور میں دائیں ہاتھ سے پکڑ کر پیالی منہ تک نہیں لے جاسکتا لیکن نیچے دایاں ہاتھ ضرور رکھ لیتا ہوں۔تو دشمن کو جہاں جلد بازی بدظنی کروارہی ہے اور وہاں اپنے جو ہیں ان کی نا سمجھی اور جلد بازی کی سوچ اس بات پر حاوی ہو گئی ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنت کے خلاف یہ حرکت کر رہے ہیں حالانکہ ان کو وجہ معلوم کرنی چاہئے تھی اور جب حضرت مصلح موعودؓ نے روکا تو رک جانا چاہئے تھا اور پوچھنا