خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 594 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 594

خطبات مسرور جلد 14 594 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2016 غریب ممالک والے بیشک چندے دیتے ہیں لیکن ان کے اخراجات ان کے چندوں سے بہت بڑھ کر ہیں اس لیے امیر ممالک سے دیئے گئے جو چندے ہوتے ہیں وہ مرکز ان ممالک پر خرچ کرتا ہے جن کے اپنے بجٹ پورے نہیں ہوتے۔سینکڑوں سکول، در جنوں ہسپتال، سینکڑوں مشن ہاؤسز، سینکڑوں مساجد ہر سال تعمیر ہوتی ہیں اور ان کے لیے رقم کی ضرورت ہوتی ہے جو تحریک جدید اور وقف جدید کے چندوں سے پوری کی جاتی ہے۔اسی طرح ایم ٹی اے کے اوپر بھی کئی ملین ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔گو مڈ تربیت اور ایم ٹی اے کی بھی ایک مذ ہے جس میں لوگ چندے دیتے ہیں لیکن اخراجات اس سے بہت زیادہ ہیں۔ایم ٹی اے کے بارہ میں میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ جائزے کے مطابق یہاں ایم ٹی اے سننے کا رواج جتنا ہونا چاہیے وہ نہیں ہے یا کم از کم میرے خطبات براہ راست نہیں سنتے۔جماعت اتنا بے شمار جو خرچ کرتی ہے یہ جماعت کی تربیت کے لیے ہے۔اگر وقت کا فرق بھی ہے تو جو repeat خطبہ آتا ہے تو اس کو سننا چاہیے۔بیشمار غیر لوگ سنتے ہیں اور پھر مجھے لکھتے ہیں کہ ہم غیر از جماعت ہیں لیکن آپ کے خطبات سن رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایم ٹی اے کو خلافت سے جماعت کا تعلق جوڑنے کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔اگر گھروں میں آپ لوگ اس طرف توجہ نہیں دیں گے تو آہستہ آہستہ آپ کی اولادیں پیچھے ہٹنا شروع ہو جائیں گی۔اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیے گئے وعدے ضرور پورے کرے گا انشاء اللہ۔مخلصین بھی آئیں گے اور آپ نے دیکھا کہ نئے شامل ہونے والوں میں اخلاص کتنا بڑھا ہوا ہے۔لیکن یہ نہ ہو کہ نئے آنے والے تو سب کچھ لے جائیں اور پر انے اس بات پر فخر کرتے رہیں کہ ہمارے باپ دادا صحابی تھے یا ہم پرانے احمد کی ہیں۔اللہ تعالیٰ کی کسی کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں ہے۔اگر پر انے اپنے آپ کو دور کریں گے تو پھر باپ دادا کے صحابی ہونے سے یا ان کے رشتہ دار ہونے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔پس اس سے پہلے کہ پچھتاوا شروع ہو جائے اپنے آپ کو خلافت کے ساتھ جوڑیں اور اس کا بہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ایم ٹی اے دیا ہوا ہے اسے استعمال کریں۔دوسرے بھی بے شمار اچھے پروگرام ایم ٹی اے پر آتے ہیں لیکن کم از کم خطبات تو ضرور سنا کریں۔یہ نہیں کہ مربی صاحب نے ہمیں خلاصہ سنادیا تھا اس لیے ہمیں پتہ ہے کیا کہا گیا۔خلاصہ سننے میں اور پوراسننے میں بڑا فرق ہے۔اب جیسا کہ میں نے کہا کہ تحریک جدید کا نیا سال شروع ہو رہا ہے اور پر انا سال ختم ہو رہا ہے اس نئے سال کا اعلان کرتاہوں۔میرے خیال میں کینیڈا سے پہلی دفعہ یہ اعلان ہو رہا ہے۔یہ جماعت پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس کی وسعت اتنی ہو چکی ہے کہ 1934ء میں احرار جماعت کو ختم کرنے کی باتیں کرتے تھے۔قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی باتیں کرتے تھے۔اس وقت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید کا اعلان کر کے دنیا میں مشنری بھیجنے کا منصوبہ بنایا۔