خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 593 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 593

خطبات مسرور جلد 14 593 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2016 جدید کے دفتر آئیں اور اپنا سارا زیور تحریک جدید میں پیش کر دیا اور زیور اتنا زیادہ تھا کہ سارا میز زیور سے بھر گیا۔سونے کے بار ، انگوٹھیاں، چوڑیاں، کافی تعداد میں یہ چیزیں تھیں۔لیکن انہوں نے کہا میرا نام نہیں ظاہر کرنا تاکہ میری قربانی صرف خدا تعالیٰ کی خاطر ہو۔زیور عورت کی کمزوری ہے لیکن احمدی عورتیں ہیں جو یہ قربانیاں کرتی ہیں۔یہاں بھی مجھے ایک احمدی عورت ملیں کہ میں نے اپنا تمام زیور چندے میں مسجد فنڈ میں یا کسی چیز میں دے دیا تھا لیکن میرے سسرال والوں کو یہ بات بہت ناپسند آئی اور مجھے کہہ رہے ہیں کہ کیوں تم نے دیا اور مختلف قسم کے طعنے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو اپنی خاطر قربانی کرنے والوں کو نوازتا ہے اور ان خاتون کو بھی جنہوں نے اللہ کی خاطر قربانی کی انشاء اللہ تعالیٰ نوازے گا اور بہت دے گا لیکن ان لوگوں کو فکر کرنی چاہئیے جو انہیں یا کسی کو بھی مالی قربانی سے روکتے ہیں۔مال دینے والا بھی خدا ہے اور ناشکری کرنے والے سے لے بھی سکتا ہے اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔اس لیے ایسے لوگوں کو جن کے دل میں اس قسم کے خیالات آتے ہیں استغفار بہت زیادہ کرنی چاہیے۔رشیا میں بھی کئی واقعات ہیں۔ایک دوست لینار صاحب کہتے ہیں ان کے حالات کافی خراب تھے کرائے کے فلیٹ میں رہتے تھے۔کئی مالی مشکلات میں گھرے ہوئے تھے لیکن اپنے لازمی چندے اور تحریک جدید کا چندہ اپنی توفیق کے مطابق ادا کرتے رہے۔یہ دوست کہتے ہیں کہ چندے کی برکت سے میری بیوی کو میڈیکل کالج ختم ہونے کے بعد حکومت کی نوکری مل گئی اور حکومت نے بچوں کی رہائش کے لیے قرض بھی فراہم کر دیا۔اب مالی حالات پہلے سے بہت بہتر ہو گئے ہیں اور اللہ کے فضل سے ہمارے پاس دو گاڑیاں بھی آگئی ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل اور چندہ ادا کرنے کا نتیجہ ہے۔پہلے بہت مشکل حالات میں بھی ہم چندہ دیتے رہے اور اب تو اللہ تعالیٰ نے بہت کشائش دی ہے۔اب رشیا میں بیٹھا ہوا ایک شخص ہے اس کو بھی اللہ تعالیٰ نواز رہا ہے۔افریقہ والے کو بھی نواز رہا ہے۔انڈو نیشیا والے کو بھی نواز رہا ہے۔دوسرے ممالک میں بھی، یورپ میں بھی، تو یہ سب اللہ تعالیٰ کا سلوک ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو وعدہ فرمایا تھا محبوں کی جماعت عطا کرنے کا اور ان کو ایمان میں بڑھانے کا، جو اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھتے ہیں ان کو ایمان میں بڑھاتا بھی ہے۔مالی قربانیوں اور اس پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے بیشمار واقعات ہیں جو میرے پاس آئے لیکن میرے لیے مشکل ہو گیا تھا کہ ان میں سے کون سے نکالوں۔چند ایک میں نے پیش کیے۔جیسا کہ میں نے کہا تقریباً ہر ملک میں رہنے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہی سلوک ہے۔جو اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس کی خاطر قربانی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بے انتہا نوازتا ہے۔ایک عقل رکھنے والے انسان کے لیے احمدیت کی سچائی کا یہی ثبوت کافی ہے کہ کس طرح قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ قربانی کرنے والوں کو نوازتا ہے اس لیے کہ یہ چندے خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت میں خرچ ہوتے ہیں۔