خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 592
خطبات مسرور جلد 14 592 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2016 فیکٹری کو انہوں نے کرائے پر لیا ہو ا تھا وہ فیکٹری انہوں نے خرید لی اور کاروبار بھی اچھا ہو گیا۔اسی طرح انڈونیشیا سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ وہاں کے ایک شخص نے کہا کہ اگر میرے پاس موٹر سائیکل ہو تو مجھے اپنے بیٹے کے ساتھ جمعہ پڑھنے کے لیے آسانی ہو جائے گی تو ہمارے مبلغ نے انہیں کہا کہ دعا کریں اور چندوں میں با قاعدگی اختیار کریں۔اس کے بعد انہوں نے اپنا اور فیملی کا تحریک جدید کا چندہ دینا شروع کر دیا۔کہتے ہیں تھوڑے عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور موٹر سائیکل خریدنے کی توفیق مل گئی۔اب اس گھر میں ایک کی بجائے تین موٹر سائیکل ہیں۔وصیت انہوں نے کر لی ہے اور آمدنی ان کی بڑھ گئی ہے۔یہاں کینیڈا میں بھی بعض لوگ ایسے ہیں جن کے متعلق امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ہزار ڈالر چندہ تھا جو بڑھا کے پانچ ہزار کا وعدہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ادا بھی کر دیا۔اس لیے شروع میں ہی ادا کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹا جائے اور مسجد کے لیے بھی انہوں نے بیس ہزار ڈالر کی ادائیگی کی۔اسی طرح بعض یہاں بھی ایمان افروز واقعات ہیں۔کینیڈا کی ایک خاتون کہتی ہیں کہ میر اوعدہ ایک ہزار ڈالر کا تھا۔پیسے نہیں تھے۔شام کو خاوند کا فون آیا کہ فلاں شخص نے پیسے دیئے ہیں، چیک دیا ہے۔تو میں نے کہا کہ ایک ہزار ڈالر کا چیک ہو گا۔اس نے کہا تمہیں کس طرح پتا ہے ؟ میں نے کہا اس لیے کہ مجھے فکر تھی کہ میں نے تحریک جدید کا چندہ ادا کر نا تھا اور ایک ہزار ڈالرز ادا کرنا تھا اور مجھے خیال ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا ہے تو اتنی ہی رقم ہو گی۔اسی طرح یورپ کے ممالک کے واقعات ہیں۔یہاں نئی جماعتیں قائم ہو رہی ہیں۔کروشیا کے مبلغ لکھتے ہیں کہ غربت کی وجہ سے نوکریوں کے مواقع بہت کم ہیں۔ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جس کے پاس کوئی انکم کا ذریعہ نہیں ہے۔یہ لوگ یا تو اپنے رشتہ داروں کی طرف سے اگر کوئی رقم مل جائے یا اگر کوئی ایسا کام مل جائے جو ایک یا دو دن کا ہے اس سے عموما گزارہ کرتے ہیں۔ایک بڑی عمر کے احمد کی دوست ہیں جن کو جماعتی کام کرنے کا بہت شوق ہے اور تقریباً اپنا سارا وقت جماعت کے کاموں میں صرف کرتے ہیں لیکن جب جماعت کا کام نہیں بھی کر رہے ہوتے تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی نہ کوئی کام جس سے جماعت کو فائدہ ہو وہ کرتے رہیں۔تقریباً ایک سال سے وہ خالی کین (can) جمع کرتے تھے تاکہ اس کو ری سائیکلنگ والوں کو دے کے کچھ رقم مل جائے۔سال بھر انہوں نے یہ کین (can) جمع کیے اور ری سائیکلنگ والوں کو دیئے۔سارے سال میں اس کام کے انہیں صرف تیس ڈالر ملے اور ان کو لے کے وہ سیدھے مشن ہاؤس آئے اور اس میں سے دس ڈالر چندے میں ادا کر دیئے کہ میرا تحریک جدید کے چندہ کا وعدہ تھا وہ میں نے پورا کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس حساب سے سارے سال میں جو محنت انہوں نے کی اس کا ایک بٹا تین (1/3) جماعت کو دے دیا۔جرمنی کے سیکرٹری تحریک جدید نے لکھا کہ ایک خاتون ہیں جنہوں نے اپنا نام نہیں ظاہر کیا۔تحریک