خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 591 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 591

خطبات مسرور جلد 14 591 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2016 پیدل چل کے آئیں اس لیے کہ رکشہ پہ جو پیسے لگنے تھے وہ بھی میں چندے میں دے دوں۔تو یہ ہیں لوگوں کے معیار جو دور دراز کے علاقوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ جس طرح احمدیوں کے ایمانوں کو ذاتی تجربات میں سے گزار کر تقویت بخشتا ہے وہ بھی ہر واقعہ سے ظاہر ہوتی ہے۔بین کے معلم زکریا صاحب ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہیں کہ ایک جماعت سنوے پو تا(Sinwe Kpota) کے صدر کی نوکری چلی گئی جس کی وجہ سے وہ بڑے پریشان تھے۔انہی دنوں میں انہیں تحریک جدید کی یاد دہانی کروائی گئی۔کچھ دن کے بعد انہوں نے مجھے بتایا کہ جب مجھے چندے کی یاد دہانی کروائی گئی تو سخت فکر ہوئی۔میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ کوئی ذریعہ پیدا فرمادے کہ میں اپنا تحریک جدید کا چندہ ادا کر دوں اور کہتے ہیں کہ میں نے رات بھی بہت بے چینی سے گزاری۔صبح فجر کی نماز سے فارغ ہوا تو کام کی تلاش میں ایک قریبی گاؤں میں چلا گیا۔وہاں مجھے کوئی کام نہیں ملا لیکن ایک آدمی اپنے جانور بیچنے کے لیے کہیں جارہا تھا میں نے اس کی کچھ مدد کر دی۔اس شخص نے مجھے پانچ سو فرانک دیئے۔کہتے ہیں میں نے ان پیسوں میں سے دو سو فرانک سے کچھ کھانے کا سامان لیا۔سو فرانک اپنے بچے کو دیئے سکول جاتا ہے اور دو سو فرانک چندہ میں ادا کر دیئے۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس حقیر سی قربانی کے بدلے ایسا فضل فرمایا کہ چندہ دینے کے ٹھیک چار دن کے بعد ان کو کام مل گیا اور اتنی جلدی اور ایسا مناسب کام مل جانا محض اتفاق نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔یہ افریقہ سے واقعات ہیں۔پھر اب انڈیا سے بھی ان کے انسپکٹر تحریک جدید لکھتے ہیں۔صوبہ جات آندھرا اور تلنگانہ کے انسپکٹر شہاب الدین صاحب کہتے ہیں کہ حیدر آباد کے ایک دوست ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔انہوں نے اپنی تجارت میں ہیں ہزار روپے سے کام شروع کیا۔ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔نمازوں کے اوقات جب ہوتے ہیں تو دوکان بند کر دیتے ہیں۔یہ ہے حقیقی مومن کی شان کہ پھر کاروبار بند کرے۔اور کہتے ہیں کہ سال میں ایک ماہ کی مکمل آمد تحریک جدید میں ادا کرتے ہیں۔اس سال بھی انہوں نے ساٹھ ہزار روپے تحریک جدید میں دیئے۔کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔کہتے ہیں ایک دن میں نے انہیں کہا کہ آپ اپنا ذاتی گھر خرید لیں۔اس پر کہنے لگے کہ جیسا چل رہا ہے چلنے دیں۔دنیا ویسے بھی اس طرح ہلاکت کی طرف بڑھ رہی ہے کہ مال جمع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔کیوں نہ میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتار ہوں۔اسی طرح پاکستان سے نائب وکیل المال لکھتے ہیں کہ سیالکوٹ کے ایک خادم کے ساتھ ملاقات ہوئی۔پندرہ ہزار روپیہ ان کا وعدہ تھا جو میں نے انہیں کہا کہ پندرہ ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ کر دیں تو انہوں نے ایک لاکھ روپیہ کر دیا۔انہوں نے جوتے ایکسپورٹ کرنے کا کاروبار شروع کیا اور کہتے ہیں شروع میں پانچ ہزار چندہ دیتے تھے۔پھر دس ہزار دیا۔پھر آگے بڑھایا۔پندرہ ہزار سے بڑھایا، لاکھ کیا۔اب وہ کہتے ہیں چندوں کی برکت سے جس