خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 590 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 590

خطبات مسرور جلد 14 590 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2016 سوچا کہ جب مجھے سیکرٹری مال بنایا گیا ہے تو میری مالی قربانی جماعت کے لیے نمونہ ہونا چاہیے۔اب ایک دور دراز رہنے والے ایک ملک میں چھوٹی سی جگہ پر ایک غریب آدمی کو یہ خیال آتا ہے کہ جب مجھے سیکرٹری مال بنایا گیا تو میری قربانی کا معیار بھی دوسروں سے زیادہ بہتر ہونا چاہیے۔کہتے ہیں میں نے باقاعدگی سے چندہ دینا شروع کر دیا اور چندے کی برکت سے میرے حالات میں بھی تبدیلی پیدا ہونی شروع ہو گئی۔زندگی پر سکون اور خوشحال ہونے لگی۔میرا بیٹا بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیماریوں سے محفوظ ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب جماعت کی خدمت اور مالی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔پیٹ کاٹ کر قربانی کرنے کا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔سنا تو تھا لیکن اس کی حقیقت تک انسان نہیں پہنچ سکتا جب تک بعض ایسے واقعات سامنے نہ آئیں۔غریبوں کی قربانیوں کے معیار دیکھ کر یہ چیزیں سامنے آتی ہیں۔گمبیا میں yeeda گاؤں کی ایک خاتون نے احمدیت قبول کی۔تحریک جدید کے بارے میں جب انہیں بتایا گیا تو اس خاتون نے جواب دیا کہ میرے گھر میں صرف چاول خریدنے کے لیے سوڈلاسی پڑے ہوئے ہیں۔چاول بالکل ختم ہو چکے ہیں۔اس خاتون نے یہ بھی بتایا کہ اس کا اکلوتا بیٹا جو اس کے خاندان کو سپورٹ کر تا تھا وہ دو سال سے غائب ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ فوت ہو چکا ہو گا۔اب اس کا کوئی اتا پتہ نہیں لیکن ساتھ ہی اس خاتون نے کہا کہ ٹھیک ہے میں گزارہ کرلوں گی، کھانے کے لیے کہیں سے ادھار لے لوں گی۔یہ رقم جو ہے یہ تحریک جدید کے چندے میں دے دیں۔اللہ تعالیٰ خود میرا کوئی بندوبست کر دے گا۔اس وقعہ کے تین دن بعد ہی اس کا وہ لڑکا جو دو سال سے غائب تھا واپس آگیا اور اپنے ساتھ چاول کی دس بوریاں بھی لے کر آیا اور بہت بڑی رقم لے کر آیا۔تو اس لڑکے نے بتایا کہ جب وہ غائب تھا تو اس عرصے میں وہ تعمیرات کا کام سیکھتارہا اور اب اسے شہر میں رہتے ہوئے بہت بڑے اور اچھے ٹھیکے ملنے لگ گئے ہیں۔تو یہ خاتون خود کہنے لگیں کہ یہ میری اس وقت کی مالی قربانی کی برکت ہے اور میں آئندہ ہمیشہ حصہ لوں گی۔کیا یہ انقلاب نہیں ہے جو دور بیٹھے ہوئے لوگوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی وجہ سے پیدا کر دیا ہے ؟ یقینا ہے۔اس عورت کی ایمانی حالت دیکھیں کس درجے پر پہنچی ہوئی ہے کہ اس نے اپنی بھوک کی کوئی پرواہ نہیں کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے بھی جو اس سے سلوک فرمایاوہ بھی حیران کن ہے۔مالی سے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ ایک احمدی خاتون جن کی عمر اسی سال کے قریب ہے بڑا با قاعدہ چندہ دیتی ہیں۔ایک دن گھر سے پیدل چل کر جو ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا مشن ہاؤس آئیں اور گرمی میں ان کا براحال تھا۔ان ممالک میں گرمی بھی بڑی پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ مجھے بتادیتیں میں آکے چندہ لے لیتا۔کہنے لگیں کہ مجھے مالی قربانی کا جب سے پتالگا ہے کہ اس کی کیا اہمیت ہے تو میں نہیں چاہتی کہ اس کا ثواب ضائع کروں۔ایک تو