خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 589
خطبات مسرور جلد 14 589 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2016 مادی دور میں جہاں انسان مال سے بہت محبت کرتا ہے اور ہم تو غریب علاقے کے لوگ ہیں، کس طرح اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگ پیدا کیے ہیں جو اللہ کی راہ میں مال دے کر حقیقی خوشیاں اور سکون پاتے ہیں۔اس طرح احمدی دوست جنہوں نے بس ڈرائیور کے ذریعہ اپنا چندہ بھجوایا تھا ان کا یہ چندہ بھجوانا اس غیر احمدی کو بھی احمدیت میں شامل کرنے کا باعث بن گیا۔پس یہ ہیں وہ نیک نیتی سے دیئے ہوئے چندے جن کے نتائج فوری طور پر نکلتے ہیں۔مالی قربانی جو محبوب مال میں سے دی گئی ہے وہ ایک سعید روح کی اصلاح کا باعث بن گئی۔تو اس طرح اللہ تعالیٰ پھل دینے کے مختلف ذرائع استعمال کرتا ہے۔اسی طرح سینیگال کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ہماری جماعت کے ایک ممبر عمر صاحب کے والد جو کہ غیر احمدی تھے گئی کنا کری سے انتہائی بیماری کی حالت میں آئے۔ابتدائی ادویات اور چیک اپ کے بعد ڈاکٹروں نے پر اسٹیٹ کا آپریشن تجویز کیا لیکن عمر دیالو صاحب کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ اپنے والد صاحب کا آپریشن کرواسکتے اور اتنا بڑا قرضہ لینا بھی ان کے لیے مشکل نظر آرہا تھا۔بے حد پریشان تھے۔کہتے ہیں کہ اکتوبر کا پہلا ہفتہ شروع ہوا تو جمعہ کے خطبہ میں جب میں نے تحریک جدید کے بارے میں توجہ دلائی تو اگلے روز عمر صاحب مشن ہاؤس آئے اور کہنے لگے میری تحریک جدید کے چندے کی رسید کاٹ دیں۔امیر صاحب کہتے ہیں کہ مجھے ان کے حالات کا پتہ تھا میں نے انہیں کہا کہ آپ کے پہلے حالات ایسے ہیں، والد بیمار ہیں آپ یہ قربانی کس طرح کریں گے۔انہوں نے کہا کل جو آپ نے خطبہ دیا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ سے سودا ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے سودا کرنے آیا ہوں اس لیے آپ میری رسید کائیں۔یہ کہتے ہیں میں دو دن کے بعد جب ان کے گھر ان کے والد کی عیادت کرنے کے لیے گیا تو ان کے والد باہر کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے اور عمر صاحب کچھ دیر بعد آئے اور کہنے لگے کہ آج میری تجارت کامیاب ہو گئی کہ اللہ کے فضل سے والد بالکل ٹھیک ہیں اور درد وغیرہ کچھ نہیں ہے۔کچھ دن کے بعد ڈاکٹر نے بھی دوبارہ چیک آپ کیا تو اس نے کہا آپریشن کی بھی ضرورت نہیں ہے۔چنانچہ اس واقعہ کے بعد ان کے والد نے بھی بیعت کر لی۔تو یہ بعض دفعہ نقد سودے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔گزشتہ ہفتے میں میں نے مسجد کے افتتاح پر بھی یہاں کے ایک شخص کا ذکر کیا تھا کہ کس طرح اس نے مسجد کی خدمت کو ترجیح دی اور اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طور پر اس کے لیے بہت بڑی رقم کا انتظام کر دیا۔ایک دنیا دار تو شاید اس کو اتفاق سمجھے لیکن خدا پر یقین رکھنے والا اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو ہو ا۔اسی طرح کانگو کنشاسا کی ایک جماعت Vunda Muhunde کے ایک احمدی دوست ایوب Kukondolo صاحب کہتے ہیں کہ میں پہلے جماعتی کاموں میں حصہ نہیں لیتا تھا۔میرا بیٹا ہمیشہ بہار رہتا تھا اور اسکے علاج معالجہ پر بہت خرچ ہو تا تھا۔کہتے ہیں پھر مجھے لوکل عاملہ میں سیکرٹری مال کی ذمہ داری دی گئی۔اس پر میں نے