خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 588 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 588

خطبات مسرور جلد 14 588 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2016 چنانچہ مبلغ انچارج گئی کنا کری لکھتے ہیں کہ یہاں ایک جماعت ہے سومبو یادی(Soumbouyady) اس کی مسجد کے امام اپنی مسجد سمیت اس سال جماعت میں شامل ہوئے۔جب انہیں جماعت کے مالی نظام اور تحریک جدید کی اہمیت کے بارہ میں بتایا گیا تو کہنے لگے کہ میں نے خود بھی چندہ اور زکوۃ پر بہت زیادہ لیکچر دیئے ہیں لیکن اتنا مضبوط اور جامع مالی نظام میں نے کہیں اور نہیں دیکھا اور نہ کبھی ایسے نظام کے بارہ میں سنا تھا۔چنانچہ موصوف نے اسی وقت چندہ کی ادائیگی کی اور کہا کہ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ ہر ماہ ہماری ساری جماعت چندہ ادا کرے گی۔یہ وہ لوگ ہیں جو غریب علاقے کے ہیں اور غربت کا جو معیار یورپ میں یا مغرب میں ہے اس کے انتہائی نچلے درجے کے غریب ہیں۔لیکن قربانیوں میں یہ سب سے اعلیٰ درجہ پر پہنچنے والے لوگ ہیں۔پھر یہ صرف ایک ملک کا قصہ نہیں بلکہ یہ ہوا دنیا کے بہت سے ممالک میں چل رہی ہے۔پہلے گنی کنا کری کا ذکر ہوا تھا تو اب آئیوری کوسٹ کے مبلغ صاحب بھی لکھتے ہیں کہ ہم تبلیغ کے لیے ایک گاؤں کو پنگے (Kopingue) میں گئے اور انہیں جماعت کا پیغام پہنچایا۔تمام مردوزن نے بہت غور سے ہماری تبلیغ سنی۔ایک دوست کہنے لگے کہ پہلے بھی یہاں کافی لوگ تبلیغ کے لیے آچکے ہیں لیکن اس طرح کا خوبصورت پیغام ہم نے پہلے کبھی نہیں سنا۔چنانچہ اس کے بعد تین سو کے قریب لوگوں نے اسی وقت جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔اس کے بعد انہیں جماعت کے مالی نظام اور تحریک جدید کے بارے میں بتایا گیا اور باتوں باتوں میں یہ ذکر بھی ہو گیا کہ تحریک جدید کا جو سال ہے آج اس کا یہ آخری دن ہے۔اس پر گاؤں کے چیف اور امام نے گاؤں والوں سے کہا کہ بیشک ہم آج احمد کی ہوئے ہیں اور احمدیت میں آج شامل ہوئے ہیں لیکن ہر صورت میں اس مبارک تحریک میں شامل ہوں گے۔چنانچہ گاؤں والوں نے فوری طور پر دس ہزار فرانک جمع کر کے تحریک جدید میں ادا کیے۔پھر قربانی کا ایک واقعہ افریقہ کے ایک اور ملک تنزانیہ کے موانزہ ریجن کا ہے۔وہاں کے ایک دوست کا تحریک جدید کا وعدہ دولاکھ شلنگ کا تھا جس میں سے انہوں نے ایک لاکھ شلنگ کی ادائیگی کر دی تھی جبکہ ایک لاکھ بقایا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ اکتوبر میں امیر صاحب نے انہیں توجہ دلائی کہ ابھی آپ کے ذمہ ایک لاکھ شلنگ بقایا ہے اور تحریک جدید کا سال ختم ہو رہا ہے۔اس پر انہوں نے کہا کہ میں اس وقت سفر پہ ہوں لیکن میں کوئی انتظام کرتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے ایک بس ڈرائیور کے ہاتھ یہ رقم بھجوادی اور اسے یہ کہا کہ یہ میرا چندہ ہے جس کی ادائیگی بہت ضروری ہے اور وہاں پہنچتے ہی یہ ساری رقم معلم کو دے دینا۔اس کا نام بتایا، پتہ دیا۔چنانچہ وہ بس ڈرائیور جو نہی بس اسٹینڈ پر پہنچا اس نے معلم صاحب کو فون کر کے کہا کہ آپ کی امانت میرے پاس ہے آکے لے جائیں۔جب معلم صاحب چندہ لینے گئے تو ڈرائیور نے معلم سے کہا کہ وہ بھی احمدی ہونا چاہتا ہے۔اس بس ڈرائیور کے بیوی بچے پہلے احمدی ہو چکے تھے لیکن وہ خود نہیں ہو رہا تھا کہ تسلی نہیں ہے۔کہنے لگا مجھے اس بات نے بہت متاثر کیا ہے کہ اس