خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 587
خطبات مسرور جلد 14 587 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2016 جماعت کو بھی اس کی قدر اور مرتبہ کے موافق " یعنی جتنا جتنا جماعت کا ایمان ہے اور جو ان کی حالت ہے۔صحابہ کا مقام تو بہت اونچا تھا لیکن اس زمانے میں ان صحابہ کا مقام بھی بلند تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے تھے۔فرماتے ہیں " اس کی قدر اور مرتبہ کے موافق ایک جوش بخشا ہے اور وہ وفاداری اور صدق کا نمونہ دکھاتے ہیں۔" پھر جماعت کی مالی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے "میری دینی اغراض و مقاصد کے میں ہمیشہ دل کھول کر چندے دیئے ہیں۔" فرمایا کہ " ہر شخص کم و بیش اپنی استطاعت اور مقدرت کے موافق حصہ لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ وہ کس اخلاص اور وفاداری سے ان چندوں میں شریک ہوتے ہیں۔" فرمایا کہ "میں یہ خوب جانتا ہوں کہ ہماری جماعت نے وہ صدق و وفا د کھایا ہے جو صحابہ ساعت العسر میں دکھاتے تھے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 336-337) (ملفوظات جلد اول صفحہ 338) یعنی تنگی کے موقع پر دکھاتے تھے۔ایک موقع پر آپ نے افراد جماعت کے معیار قربانی کو دیکھ کر اس حیرت کا بھی اظہار فرمایا تھا کہ کس طرح یہ لوگ اتنی قربانی دیتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں میں وہ انقلاب پیدا کیا جو دنیاوی خواہشات کو پس پشت ڈال کر، پیچھے کر کے دین کو مقدم کرنے والا تھا۔لیکن کیا قربانی کی جو روح آپ نے اپنے ان ماننے والوں میں پیدا کی تھی جو براہ راست آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے تھے وہ ختم ہو گئی ؟ اس وقت تک تھی ؟ اگر ایسا ہوتا اور اگر ایسا ہے تو پھر جماعت کے قدم ترقی کرنے والے کبھی نہیں ہو سکتے اور نہ کبھی ترقی کی طرف اٹھتے۔اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ بھی وعدہ فرمایا تھا کہ تجھے زمین کے کناروں تک عزت کے ساتھ شہرت دوں گا اور اس کے لیے مخلص اور فدائی اور قربانیاں کرنے والی جماعت کی بھی ضرورت تھی۔اسی طرح آپ نے اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر یہ خوشخبری بھی دی تھی کہ آپ کے بعد یہ نظام خلافت جاری ہو گا جو آپ کے کام کی تکمیل کرے گا اور جس کے ساتھ جڑ کر مخلصین اس کام کو سر انجام دیں گے۔چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کس طرح پورے فرماتا چلا جارہا ہے۔مخلصین کی ایک جماعت ہے اور خلافت کے ساتھ جڑ کر جان، مال اور وقت کی قربانی دے رہی ہے۔کیونکہ آج میں تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان بھی کروں گا اس لیے میں ان چند قربانی کرنے والوں کے کچھ واقعات پیش کرتا ہوں جو مالی قربانی سے تعلق رکھتے ہیں۔صرف امیر ممالک میں نہیں بلکہ غریب ممالک اور بالکل نئے شامل ہونے والے احمد کی جو ہیں ان کے دل بھی اللہ تعالیٰ احمدیت قبول کرنے کے بعد کس طرح پھیر تا ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ باوجود تنگی کے وہ قربانیوں میں آگے بڑھنے والے ہیں۔