خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 586 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 586

خطبات مسرور جلد 14 586 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2016 ہمارے کہا بیر کے مبلغ نے ایک واقعہ لکھا کہ یروشلم یونیورسٹی کے دو ریٹائرڈ پروفیسر اپنے دو بیرونی مہمان دوستوں کے ساتھ ہمارے مشن کہا بیر میں آئے۔ان کے ساتھ جماعت کے متعلق گفتگو کرنے کا موقع ملا۔نظام جماعت کا بتایا گیا۔ان مہمانوں میں ایک آسٹریا سے تعلق رکھنے والے پروفیسر تھے۔وہ آخر پر کہنے لگے کہ مجھے جماعت احمدیہ کی جو سب سے اچھی بات لگی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کی جماعت کا مالی نظام نہایت پاک اور صاف ہے۔کہنے لگے کہ دنیا میں صرف پاکیزہ مال سے انقلاب لے کر آنا شاید آپ لوگوں کے مقدر میں ہی لکھا ہوا ہے اور اس کے لیے آپ کو مبارک ہو۔اور چندوں کے لیے پاکیزہ مال بہت ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اپنے اس مال سے دوجو پاک مال ہو ، جو جائز طریقے سے کمایا ہو امال ہو۔دھوکہ دے کر کمایا ہو امال نہ ہو۔ٹیکس بچا کر کمایا ہو امال نہ ہو۔یا کسی بھی غلط طریقے سے غلط رنگ میں کمایا ہوا مال نہ ہو۔پس چندے بھی ان لوگوں سے وصول کیے جاتے ہیں جن کے بارہ میں کم از کم یہ پتا ہو کہ یہ غلط قسم سے کمایا ہو امال نہیں ہے اور اگر ہے تو نظام جماعت چندہ نہیں لیتی۔اور اگر پھر بھی لیا جاتا ہے تو وہ اگر مجھے پتا لگے تو بہر حال یا تو چندہ واپس کیا جاتا ہے یا ان عہدیداروں کو معطل کیا جاتا ہے۔پس اصل چیز یہ ہے کہ قربانی کر کے دینا اور پاک مال میں سے دینا، تبھی اس میں برکت پڑتی ہے۔اور جب یہ غیروں کو بتایا جائے تو وہ بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں جیسا کہ اس پروفیسر نے کہا۔پھر یہ بات اس دنیادار کو بھی نظر آگئی کہ انقلاب لانے والے یہی لوگ ہیں۔پس جب تک ہماری نیتیں نیک رہیں گی جب تک ہم پاکیزہ مال کمانے کی کوشش کرتے رہیں گے اور اس کو خداتعالی کی راہ میں خرچ کریں گے یقینا تب ہم انقلاب لانے کا ذریعہ بن سکیں گے اور یہ انقلاب ہمارے سے مقدر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ وعدہ ہے۔کوئی دنیاوی انقلاب ہم نے نہیں لانا بلکہ روحانی انقلاب لانا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا میں پہنچانا ہے۔توحید کا قیام کرنا ہے اور مخلوق کے حق ادا کرنے ہیں۔اور یہ کوئی انسانی باتیں نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خالص اور دلی محبوں کا گر وہ بڑھانے کا وعدہ کیا ہوا ہے جو یہ کام سر انجام دیں گے ، جو آپ کے کام کی تکمیل کے لیے ہر قربانی کرنے والے ہوں گے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جماعت کی وفا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے وہ صدق و وفا کا نمونہ دکھایا جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔انہوں نے آپ کی خاطر ہر قسم کا دکھ اٹھانا سہل سمجھا یہاں تک کہ عزیز وطن چھوڑ دیا۔اپنے املاک و اسباب اور احباب سے الگ ہو گئے۔" فرماتے ہیں: " اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری