خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 585 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 585

خطبات مسرور جلد 14 585 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2016 وہاں ان کے دین و ایمان اور انہیں خدا تعالیٰ کے قریب لانے کا خیال رکھنا بھی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو بے چین رہتے تھے جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی آیا ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا کہ لوگوں کی حالت دیکھ کر تو اپنے آپ کو ہلاک کرلے گا۔وہ کیا حالت تھی جس کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بے چین ہوتے تھے۔وہ حالت ان لوگوں کی اللہ تعالیٰ سے دوری تھی، ایمان سے دوری تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو تکلیف میں اس لیے ڈالتے تھے کہ یہ لوگ ایمان نہ لاکر اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آجائیں گے۔پس اس زمانے میں بھی علاوہ مادی ضروریات کے پورا کرنے کے جس کے لیے مال خرچ کرناضروری ہے، غریبوں کی مدد کرنا ضروری ہے۔ہم احمدیوں کے لیے روحانی ضروریات پورا کرنے کے لیے مال خرچ کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ تکمیل اشاعت ہدایت کا کام اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر د کیا گیا ہے۔وہ ہدایت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گل انسانیت کے لیے لائے تھے اور جس کے پھیلانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے چین تھے اس کی تکمیل کا یہ زمانہ ہے جب سب ذرائع میسر ہیں۔جس طرح یہ کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر د کیا گیا تھا اسی طرح اب یہ کام آپ کے ماننے والوں کے سپر د کیا گیا ہے۔ان کے سپر د ہے جو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔امیر لوگ تو اپنی عیاشیوں پر خرچ کرتے ہیں۔اس کثرت سے ان کے پاس دولت ہے کہ ان کو پتا نہیں چلتا کہ وہ خرچ کیا کریں، کس طرح کریں۔ساری ضروریات پوری کرنے کے بعد انہیں سمجھ نہیں آتی کہ اس دولت کا کیا کرنا ہے کیونکہ ان کا دین اور انسانی ہمدردی کا خانہ تو عموماً خالی ہوتا ہے تو پھر عیاشیوں اور بیہودگیوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔لیکن مومن وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زائد مال ہی نہیں بلکہ حقیقی نیکی حاصل کرنے کے لیے اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر اس مال سے خرچ کرو جس سے تمہیں محبت ہے۔بیشک بعض امراء بھی بعض چیریٹیز (charities) میں خرچ کرتے ہیں، صدقہ و خیرات بھی دیا کرتے ہیں لیکن ان کے خرچ ان کی آمد کے مقابلے میں بہت کم ہوتے ہیں اور پھر ان میں کوئی باقاعدگی نہیں ہوتی۔پس باقاعدگی سے اور نیک مقاصد کے پورا کرنے کے لیے نیکیاں کمانے کے لیے صرف مومن خرچ کرتا ہے اور اس زمانے میں جماعت احمد یہ ہی مومنین کی وہ جماعت ہے جو ایک نظام کے تحت اشاعت اسلام کے لیے خرچ کرتی ہے جس میں مختلف ذرائع سے تبلیغ کے کام ہیں اور مخلوق سے ہمدردی کی وجہ سے ان کے حق ادا کرتے ہوئے ان پر خرچ کیا جاتا ہے اور بہت سے ایسے لوگ ہیں جو تکلیف اٹھا کر یہ خرچ کرتے ہیں اور اس یقین سے خرچ کرتے ہیں کہ جہاں یہ خرچ اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرنے والا بنائے گا وہاں یہ بھی تسلی ہے کہ صحیح طریق سے خرچ ہو گا۔اس بات کا اعتراف تو بعض غیر لوگ بھی کیے بغیر نہیں رہتے کہ جماعت کا مالی نظام اور خرچ بہترین ہے۔