خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 584 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 584

خطبات مسرور جلد 14 584 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2016 آج کل دنیا سمجھتی ہے کہ مال کو جمع کرنا اور اسے صرف اپنے آرام و آسائش کے لیے خرچ کرنا ہی ان کے لیے خوشی اور سکون کا باعث بن سکتا ہے۔لیکن ایک مومن جس کو دین کا حقیقی ادراک اور شعور ہو سمجھتا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نعمتیں اور سہولتیں انسان کے لیے پیدا فرمائی ہیں لیکن زندگی کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہے، تقویٰ پر چلنا ہے۔اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنا ہے اور اس کی مخلوق کا حق ادا کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے جس کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے کہ اصل سکون تو نیکیاں کرنے سے ملتا ہے، مال جمع کرنے سے نہیں ملتا اور نیکی اس وقت تک اپنے معیار کو حاصل نہیں کر سکتی جب تک اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کا حق ادا کرنے کے لیے وہ چیز خرچ نہ کرو جس سے تمہیں محبت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مال و دولت ایسی چیز ہے جس سے انسان بہت محبت کرتا ہے۔آج اگر ہم جائزہ لیں تو دنیا کے فساد اور فتنوں اور افراتفری کی وجہ دولت کی محبت اور ہوس ہے۔پھر دنیا دار کو تو یہ بھی نہیں پتا کہ اگر اس کے پاس بہت سی دولت آگئی ہے تو اسے خرچ کس طرح کرنا ہے۔مغربی ممالک میں جو ترقی یافتہ ممالک کہلاتے ہیں بیشک ان میں بہت بڑے بڑے امیر لوگ بھی ہیں لیکن ان کے اخراجات کیا ہیں۔یہاں خرچ کرنے کے لیے ان کے پاس جو چیزیں ہیں casino ہیں وہاں جا کر یہ عیاشیوں میں خرچ کرتے ہیں۔جو ؤں پہ رقم خرچ کرتے ہیں۔بلکہ مسلمان ممالک کا بھی یہ حال ہے، مسلمانوں کا بھی کہ وہ لوگ بھی یہاں آکر یہ عیاشیاں کرتے اور خرچ کرتے ہیں بلکہ ان کے اپنے ممالک میں ایسی جگہیں ہیں جہاں کھلے خرچ کیے جاتے ہیں۔کچھ عرصہ ہوا میں نے ایک رسالے میں ایک آئس کریم کا اشتہار دیکھا جو دبئی کے ہوٹل کا اشتہار تھا جس کے ایک کپ کی، جس میں دویا تین سکوپ تھے ، اس کی قیمت ساڑھے آٹھ سو ڈالر تھی کہ اس میں فلاں جگہ کاز عفران استعمال ہوا ہے اور فلاں جگہ کی فلاں چیز استعمال ہوئی ہے اور اس پر سونے کا ورق چڑھایا گیا ہے۔ساڑھے آٹھ سو ڈالر میں ایک غریب ملک کے ایک پورے خاندان کا بہت اعلیٰ رنگ میں گزارہ ہو سکتا ہے لیکن یہ لوگ ایک کپ آئس کریم کھانے میں لگا دیتے ہیں۔تو جن کے پاس پیسہ بے انتہا ہو ان کو پتا ہی نہیں کہ خرچ کس طرح کرنا ہے اور کس طرح اس سے سکون حاصل کیا جاسکتا ہے۔خرچ تو بیشک یہ لوگ کرتے ہیں لیکن اپنی عیاشیوں کی تسکین کے لیے نہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اور نیکیوں کے لیے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وضاحت فرمائی ہے کہ حقیقی اتقاء اور ایمان کے حصول کے لیے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ایمان میں بڑھنے کے لیے ان لغویات اور عیاشیوں پر خرچ کرنے کی بجائے مخلوق الہی سے ہمدردی اور اس سے حسن سلوک پر خرچ کر و۔اگر یہ نہیں تو اللہ تعالیٰ کی رضا نہیں حاصل کر سکتے۔مخلوق کی ہمدردی میں جہاں ضرورت مندوں کی ضرورت کا خیال رکھنا ہے