خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 583 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 583

خطبات مسرور جلد 14 583 46 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 11 / نومبر 2016ء بمطابق 11/ نبوت 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت النور، کیلگری، کینیڈا تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے ایک موقع پر مالی قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ: شخص " دنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اسی واسطے علم تعبیر الرؤیا میں لکھا ہے کہ اگر کوئی دیکھے کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دے دیا ہے تو اس سے مراد مال ہے۔" فرماتے ہیں " یہی وجہ ہے کہ حقیقی اتقاء اور ایمان کے حصول کے لیے فرمایا لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا بِمَا تُحِبُّونَ (آل عمران: 93) حقیقی نیکی کو ہر گز نہ پاؤ گے جب تک تم عزیز ترین چیز نہ خرچ کرو گے۔" فرماتے ہیں " کیونکہ مخلوق الہی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے اور ابنائے جنس اور مخلوق الہی کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے جو ایمان کا دوسرا جزو ہے جس کے بدوں ایمان کامل اور راسخ نہیں ہو تا۔" فرمایا کہ "جب تک انسان ایثار نہ کرے دوسرے کو نفع کیو نکر پہنچا سکتا ہے۔دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لیے ایشیار ضروری شئے ہے اور اس آیت لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ میں اسی ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔پس مال کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقویٰ شعاری کا معیار اور محک ہے۔" ایک اور اقتباس ہے وہ بھی پڑھتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ : ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 95-96) بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی جو حقیقی خوشی کا موجب ہے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک عارضی تکلیفیں برداشت نہ کی جاویں۔" پھر فرمایا" مبارک ہیں وہ لوگ جو رضائے الہی کے حصول کے لیے تکلیف کی پرواہ نہ کریں کیونکہ ابدی خوشی اور دائمی آرام کی روشنی اس عارضی تکلیف کے بعد مومن کو ملتی ہے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 76)