خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 582 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 582

خطبات مسرور جلد 14 582 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2016 روز مرہ کے اخلاق ہیں، ملنا جلنا تو بہتر ہے، کسی کا حق بھی بعض نہیں مارتے لیکن بعض لحاظ سے آزادی کے نام پر اخلاقی طور پر یہ لوگ دیوالیہ ہو چکے ہیں اور پھر قانون بھی ان کو تحفظ دے دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو تو د نیا بالکل بھول چکی ہے۔ایسے میں ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آئے ہیں ہم بھی اگر اپنی قدروں کو بھول کر ، خدا تعالیٰ کو بھول کر ، اسلامی اخلاق کو بھول کر دنیا کے پیچھے چل پڑے تو دنیا کی اصلاح کون کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بیشک اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں اور وہ تو پورے ہوں گے اور لوگ مل جائیں گے لیکن یہ نہ ہو کہ ہم اس سے محروم رہ جائیں۔پس آج بھی ہر احمدی کا فرض ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اپنا جائزہ ہر احمدی کو لینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو صحیح رنگ میں ادا کر سکیں۔صرف اس بات پر خوش نہ ہو جائیں کہ مسجد بنادی۔ہمارا ٹارگٹ تو یہ ہونا چاہئے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے آنے والوں کی تعداد کو بڑھانا ہے اور یہ اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک ہمارا ہر قدم آگے بڑھنے والا نہ ہو۔ہم میں سے ہر ایک اپنوں کے لئے بھی اور غیر وں کے لئے بھی نمونہ نہ بن جائے۔ہم میں سے کوئی کسی کو دکھ دینے والانہ ہو بلکہ اپنوں، غیر وں کا حق ادا کرنے والا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: چاہئے کہ اپنے واسطے بھی اور اپنی اولاد بیوی بچوں خویش و اقارب اور ہمارے واسطے بھی باعث رحمت بن جاؤ۔مخالفوں کے واسطے اعتراض کا موقع ہر گز ہر گز نہ دینا چاہئے۔" (ملفوظات جلد 10 صفحہ 138) پس ہم میں سے ہر ایک کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس درد کو محسوس کرنا چاہئے اور اپنے وہ نمونے قائم کرنے چاہئیں جو جماعت کی نیک نامی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نیک نامی کا باعث بنیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ہمارا کل، ہمارے آج سے بہتر ہو۔ہمارے بچے اور ہماری نسلیں اس بات کو سمجھنے والی ہوں کہ ان کے ماں باپ نے جو قربانیاں دیں، جو مسجدیں بنائیں، جو تبلیغ کے کام کئے اور بچوں کو دین کو دنیا پر قائم رہنے کی جو تلقین کی وہی حقیقی دولت ہے جو اُن کے لئے چھوڑی ہے۔اور پھر آئندہ نسلیں اپنی نسلوں کے دلوں میں یہ سوچ پیدا کرتی چلی جانے والی ہوں اور اللہ تعالیٰ کرے کہ یہ سلسلہ یونہی چلتا ر ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ہماری آئندہ نسلیں بھی سمیٹتی رہیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ایسا ہی ہو۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 25 نومبر 2016ء تا01 دسمبر 2016ء جلد 23 شمارہ 48 صفحہ 05 تا08)