خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 581
خطبات مسرور جلد 14 581 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2016 نمونہ دکھاتا ہے اور عملی یا اعتقادی کمزوری دکھاتا ہے تو وہ ظالم ہے کیونکہ وہ تمام جماعت کو بدنام کرتا ہے اور ہمیں بھی اعتراض کا نشانہ بناتا ہے۔برے نمونے سے اوروں کو نفرت ہوتی ہے اور اچھے نمونہ سے لوگوں کو رغبت پیدا ہوتی ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ " بعض لوگوں کے ہمارے پاس خط آتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ میں اگر چہ آپ کی جماعت میں ابھی داخل نہیں مگر آپ کی جماعت کے بعض لوگوں کے حالات سے البتہ اندازہ لگاتا ہوں کہ اس جماعت کی تعلیم ضرور نیکی پر مشتمل ہے۔" آج بھی بہت سے لوگ مجھے لکھتے بھی ہیں اور بعض لوگ ملنے پر کہتے بھی ہیں کہ جماعت کے لوگوں کو دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ آپ کی تعلیم امن اور سلامتی اور پیار اور محبت کی تعلیم ہے۔پس اس کردار کو جاری رکھنا، اس تعلیم کو مزید پھیلانا، اس کو مستقلاً اپنے عملوں میں ڈھالنا ہر احمدی کے لئے ضروری ہے۔خود ہر " پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔۔۔خدا تعالیٰ بھی انسان کے اعمال کا روز نامچہ بناتا ہے۔" روزانہ کی ایک ڈائری بن رہی ہوتی ہے جس پر اعمال لکھے جاتے ہیں " پس انسان کو بھی اپنے حالات کا ایک روز نامچہ تیار کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ تو بنا تا ہی ہے لیکن ہر شخص کو بھی چاہئے ، ایک مومن کو بھی چاہئے کہ اپنے حالات کا ایک جائزہ لے۔روزانہ اپنی ڈائری لکھے۔دیکھے کیا میں نے اچھے کام کئے۔کیا میں نے برے کام کئے۔فرمایا کہ انسان کو بھی حالات کا ایک روز نامچہ تیار کرنا چاہئے " اور اس میں غور کرنا چاہئے۔" صرف لکھ نہیں لینا بلکہ اس پر غور کرنا چاہئے کہ نیکی میں کہاں تک آگے قدم رکھا ہے۔" انسان کا غور کرنا یہ ہے کہ ہم نیکی میں کس حد تک بڑھتے ہیں۔کل جہاں تھے اس سے آگے قدم رکھا ہے کہ نہیں رکھا۔فرمایا کہ " انسان کا آج اور کل برابر نہیں ہونے چاہئیں۔جس کا آج اور کل اس لحاظ سے کہ نیکی میں کیا ترقی کی ہے برابر ہو گیاوہ گھاٹے میں ہے۔" اسی بات پر خوش نہ ہو جائیں کہ ہماری نیکی جو کل تھی وہ آج بھی قائم ہے بلکہ آپ فرماتے ہیں کہ تمہارا قدم کل کی نسبت آج نیکی میں بڑھے۔اگر نہیں تو سمجھو تم فائدہ نہیں اٹھار ہے ، نقصان اٹھا رہے ہو ، گھاٹے میں جارہے ہو۔فرمایا کہ " انسان اگر خدا کو مانے والا اور اسی پر کامل ایمان رکھنے والا ہو تو کبھی ضائع نہیں کیا جا تا بلکہ اس ایک کی خاطر لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں۔" (ملفوظات جلد 10 صفحہ 137-138) پس آج دنیا کو ہلاکت سے بچانا احمدیوں کا کام ہے لیکن اس کے لئے شرط وہی ہے کہ ہمارے قدم آگے بڑھیں۔آپ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی خاطر بھی لاکھوں جانیں بچائی جاتی ہیں۔پس ہر احمدی کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ دنیا کو بچائے۔جو دنیا خدا کو بھول رہی ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا کو بچائیں۔بعض اخلاقی لحاظ سے اگر بہتر لوگ بھی ہیں، بعض کہہ دیتے ہیں مذہب کو ہم نے کیا ماننا ہے ہمارے اخلاق بہتر ہیں۔بعض بنیادی اخلاق تو بہتر ہیں،