خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 580 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 580

خطبات مسرور جلد 14 580 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2016 نے فرمایا مساجد جنت کے باغ ہیں۔پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں کھانے پینے سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ذکر ، تسبیح، تحمید، سُبْحَانَ اللہ کہنا، الْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا الله، اللهُ الْبَزيه سب کہنا اور پڑھنا جنت کے کھانے ہیں اور پینے ہیں۔(سنن الترمذی ابواب الدعوات باب منه حديث 3509) پس نمازوں کے ساتھ مساجد میں بیٹھ کر تسبیح اور تحمید کرنا، اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنا، اس دنیا میں جنت کے پھل کھانا ہے اور جو اس طرح اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبادت کی طرف توجہ دینے والا ہو وہ صرف اخروی جنت کو نہیں دیکھ رہاہو تا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر چلتے ہوئے حقوق العباد کی ادائیگی کی بھی کوشش کرتا ہے۔اپنے عملوں کو اس طرح ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔پس کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس دنیا میں بھی جنت کے پھل کھاتے ہیں اور کھلاتے ہیں اور اگلے جہان میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہیں۔ان لوگوں میں شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر تقویٰ پر چلنے والے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔" قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔وجہ یہ کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے۔اور اس قدر تاکید فرمانے میں بھید یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک باب میں انسان کے لئے سلامتی کا تعویذ ہے اور ہر ایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصن حصین ہے " یعنی مضبوط قلعہ ہے جس میں انسان شیطان سے بچتا ہے اگر تقویٰ پر چلے۔فرمایا کہ " ایک متقی انسان بہت سے ایسے فضول اور خطر ناک جھگڑوں سے بچ سکتا ہے جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہو کر بسا اوقات ہلاکت تک پہنچ جاتے ہیں۔" ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 342) ہر ایک کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ جو قربانیوں کے نمونے آپ نے دکھائے ہیں ان کو تقویٰ سے قائم رکھنا ضروری ہے۔نہیں تو یہ عارضی قربانیاں ہوں گی۔جیسا کہ میں نے کہا کہ شکر گزاری تبلیغ کا حق ادا کرنا بھی ہے لیکن مسجد کے بننے سے بہت سے ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی خود بخود مسجد کی طرف نظر اٹھے گی اور مسجد دیکھ کر آپ کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔یہاں کے رہنے والے احمدیوں کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔اور اس وقت ہر احمدی کا عمل اور تقویٰ ہے جو دوسروں کی ہدایت کا باعث بنے گا۔پس یہ مسجد یہاں رہنے والے ہر احمدی پر ذمہ داری ڈال رہی ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے ہر احمدی کو نمونہ دکھانے کی ضرورت ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔" ہماری جماعت کے لوگوں کو نمونہ بن کر دکھانا چاہئے۔" فرمایا کہ۔۔۔جو شخص ہماری جماعت میں ہو کر برا