خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 579
خطبات مسرور جلد 14 579 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2016 والے ہیں۔سب سے پہلے یہ فرض جماعت کے عہدیداروں اور ذیلی تنظیموں کے عہدیداروں کا ہے کہ مسجدوں کی آبادی کو اپنی حاضری سے لازمی بنائیں۔جماعت نے جو مال اور وقت کی قربانی دی ہے اس کا مستقل ثواب حاصل کرنے کے لئے عہدیداروں کو بھی اور ہر احمدی کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ اس وقت جو مسجد آپ کی تعداد سے تین گنا بڑی ہے اس کو چھوٹا کر دیں۔اور مسجدیں چھوٹی اس وقت ہوتی ہیں جب نمازیوں کی تعداد بڑھتی ہے اور جماعت کی تعداد بڑھتی ہے۔جماعت کی تعداد بڑھانے کے لئے تبلیغ بہت ضروری ہے بلکہ انتہائی ضروری ہے۔مسجد کی تعمیر پر اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری اس رنگ میں کریں کہ حقیقی اسلام اور احمدیت کا پیغام یہاں کے رہنے والے ہر شخص تک پہنچائیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے ساتھ لوگوں کا حق ادا کرنا بھی ہے۔یہ ان لوگوں کا حق ہے کہ ہم ان تک اسلام کا حقیقی پیغام پہنچائیں۔انہیں گند اور غلاظتوں سے باہر لائیں۔دنیا کو اس کے خالق حقیقی کا پتا دینا ہمارا کام ہے۔اس وقت دنیا کی اکثریت دنیاوی ترقی اور اس کی چمک دمک اور اس میں گم ہو جانے کو سب کچھ سمجھتی ہے لیکن ان کو یہ نہیں پتا کہ ان عارضی روشنیوں کے آخر پر ایک گھپ اندھیرا ہے جس میں یہ ڈوبنے والے ہیں۔ایسے وقت میں یہ افراد جماعت کا کام ہے کہ دنیا کو روشن انجام کے راستے دکھائیں۔ان کو یہ بتائیں کہ یہ عارضی روشنی ہے۔اصل روشنی وہ ہے جس کا آخر روشن ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے سے ملتا ہے ، اس کی عبادت کرنے سے ہوتا ہے اور بے نفس ہو کر عبادت کرنے سے ہوتا ہے اور یہ اُس وقت ہو گا جب ہمیں خود دنیا سے زیادہ آخرت کی فکر ہو گی۔دنیا کو ہم اسی وقت بتا سکتے ہیں جب ہم خود اپنے آپ کو بھی دیکھ رہے ہوں۔اپنی آخرت کی بھی ہمیں فکر ہو تبھی ہم آگے روشنی دکھا سکتے ہیں۔پھر ہم محبت اور پیار کے صرف نعرے لگانے والے نہیں ہوں گے بلکہ آپس میں ایک دوسرے کے حق بھی ادا کر رہے ہوں گے۔اپنی عبادتوں کے معیار اونچے کر رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے بلکہ ہمارے ہر قول و فعل سے جہاں اللہ تعالیٰ کے لئے پیار اور محبت کے چشمے اہل رہے ہوں گے وہاں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے لئے بھی پیار اور محبت کے چشمے اہل رہے ہوں گے۔جو لوگ ہمیں دُور سے دیکھ کر اور ہمارے نعرے کو سن کر ہمارے قریب آتے ہیں، جو اسلام کی خوبصورت تعلیم ہمارے سے سن کے متاثر ہوتے ہیں وہ قریب آکر کبھی یہ نہ کہیں کہ تم جو دُور سے نظر آتے تھے اس طرح قریب سے دیکھنے پر نہیں ہو۔ہمیں چاہئے کہ ہم اُخروی جنت کو حاصل کرنے کے لئے اس دنیا کو بھی جنت بنائیں۔اپنی عبادتوں سے بھی اور اپنے عمل سے بھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم جنت کے باغوں میں سے گزرو تو وہاں کچھ کھا اور پی لیا کرو۔حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس مجلس میں بیٹھے تھے اور اکثر انہی سے روایات ہیں۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس پر پوچھا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنت کے باغ کیا ہیں ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم