خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 578
خطبات مسرور جلد 14 578 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2016 جبکہ یہ بنیادی چیز ہے۔اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔زکوۃ کے بارے میں میں یہ بھی بتادوں ایک تو اس میں عمومی زکوۃ شامل ہے جو ہر اس شخص پر فرض ہے جو دولتمند ہے جس کا روپیہ بینکوں میں موجود ہے یا اس کے پاس موجود ہے۔بڑی رقم ہے ، سارا سال پڑی رہتی ہے۔جس کے پاس سونا ہے، جس کے پاس چاندی ہے۔بعض زمینداروں کے اوپر زکوۃ فرض ہے۔پھر جن کے بڑے بڑے ڈیری فارم (Dairy Farm) ہیں ان پر زکوۃ فرض ہے۔اس زکوۃ میں سب عورتیں اور مرد شامل ہیں اور اس کا ایک مقررہ نصاب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے آپ نے مقرر فرمایا۔اسی طرح خاص طور پر زکوۃ کے معاملے میں یہ بھی بتادوں کہ اس طرف عورتوں کو توجہ کرنی چاہئے۔یہاں آکر بہتر حالات ہو کر ان کے پاس کافی سونے کے زیور ہوتے ہیں۔بڑی عمر کی بھی، چھوٹی عمر کی عورتوں کو اکثر میں نے دیکھا ہے کہ کافی بھاری بھاری سونے کے کڑے اور چوڑیاں پہنی ہوتی ہیں۔بیشک پہنیں۔زینت ہے۔اللہ تعالیٰ نے جائز قرار دیا ہے۔لیکن اس پر زکوۃ دینا بھی فرض ہے۔پھر زکوۃ میں، تزکیہ اموال میں، اپنے مال کو پاک کرنے میں، ہر وہ چندہ بھی شامل ہے جو خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت اور اس سے متعلقہ کاموں پر خرچ ہوتا ہے۔حقوق العباد ادا کرنے کے لئے خرچ ہو تا ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ ہی ہے جو اشاعت دین کے کاموں میں خرچ کرتی ہے۔مساجد کی تعمیر ہے، مشن ہاؤسز کی تعمیر ہے، مبلغین کا نظام ہے، سکول ہیں، ہسپتال ہیں۔پھر اس زکوۃ کے بعد اگلا جو حکم ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سوائے خد اتعالیٰ کی ذات کے کسی سے خوف نہ کھاؤ۔اگر خدا تعالیٰ کا خوف رہے تو پھر ہی انسان بہت سی برائیوں سے بچ سکتا ہے۔ان ملکوں میں جو آزادی کے نام پر بہت سی برائیاں ہیں ان سے بچ سکتا ہے۔یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا ہونا بڑا ضروری ہے اور خدا تعالیٰ کا خوف ہی تقویٰ ہے۔اور تقویٰ کے بارے میں قرآن کریم میں بیشمار آیات ہیں جن میں مختلف احکامات ہمیں دیئے گئے ہیں۔پس اگر ان باتوں پر عمل ہے تو سمجھیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہدایت یافتہ شمار ہو سکتے ہیں اور مسجد کی آبادی کے مقصد کو پورا کرنے والے ہو سکتے ہیں۔اور یہی عمل ہیں اور یہی ایمان پر قائم ہونا اور پختہ ہونا ہے جو مسجد کی تعمیر کا مقصد پورا کرتا ہے اور یہی چیز ہے جو خدا تعالیٰ کا شکر گزار بناتی ہے ورنہ صرف اس بات پر خوش ہو جانا کہ ہم نے مسجد بنادی اور نمازوں پر کبھی کبھار آگئے ، خدا تعالیٰ سے زیادہ بندوں کا خوف ہونے لگے۔دنیا کے لالچ اور ترجیحات ہوں، دین اور اس کے فرائض کو بھلا دیں تو پھر ایک عارضی ثواب تو شاید ایسے شخص نے کما لیا ہو لیکن اللہ تعالیٰ کے مستقل فضلوں سے دُور چلے جانے والے ہوں گے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسجدوں کی حقیقی آبادی انہی لوگوں سے ہے جو ایمانی اور اعتقادی لحاظ سے بھی مضبوط اور عملی لحاظ سے بھی بڑھتے چلے جانے