خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 577
خطبات مسرور جلد 14 577 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2016 مجھے بتایا گیا کہ ہمارے ایک احمدی نے اس کا سارا خرچ برداشت کیا۔اور یہ بھی مجھے پتا ہے کہ ان کے لئے اتنا آسان نہیں تھا۔تین چار سال میں انہوں نے اس کی payment کی۔لیکن بہر حال انہوں نے کہا کہ سب کچھ میں کروں گا اور کیا۔تو یہ مزاج جیسا کہ میں نے کہا احمدیوں کا ہر جگہ ہے۔افریقن لوگوں کے متعلق ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ شاید غربت کی وجہ سے ان میں لالچ ہو لیکن جب ان کے پاس پیسے آتے ہیں تو جو قربانی کے معیار وہ قائم کرتے ہیں وہ بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ہر جگہ یہ مزاج ہے کہ خدا تعالیٰ کا گھر تعمیر کیا جائے اور اس کے لئے قربانی کی جائے۔پاکستان میں ہم مساجد تعمیر نہیں کر سکتے۔بعض دفعہ مجھے لوگ بڑی بے چینی سے لکھتے ہیں کہ دعا کریں ہم مسجد بنالیں۔قانون کی وجہ سے مسجد تو بنا نہیں سکتے، کم از کم ایک ہال میسر آجائے جہاں اکٹھے ہو کر نمازیں پڑھ سکیں۔منارہ اور گنبد تو دور کی بات ہے، مسجد بنانے کے لئے سادہ محراب بھی نہیں بنا سکتے کہ کمرے کی شکل میں آگے محراب نکال دیں۔بلکہ بعض جگہ تو ایسی سختی ہے کہ قبلہ رخ کوئی عمارت بھی ہم نہیں بنا سکتے۔لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں باہر دنیا کے ممالک میں ایسا نواز رہا ہے کہ ہمارے تصور اور کوشش سے بھی بڑھ کر یہ اللہ تعالی کی نوازشات ہیں اور مساجد بنانے کی توفیق عطا فرمارہا ہے۔پس ہم اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کو دیکھ کر شکر کے جذبات سے پر ہیں اور آج یہاں کے رہنے والوں کو بھی یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شکر میں بڑھیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک مسجد عطا فرمائی ہے۔ایک ایسا گھر عطا فرمایا ہے جو خدا تعالیٰ کا گھر ہے اور خدائے واحد کی عبادت کے لئے ہے۔بیشک یہ گھر ہے تو خد اتعالیٰ کا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فائدے کے لئے یہ گھر نہیں بنایا۔اس کا فائدہ بھی ان لوگوں کو ہو رہا ہے اور ہوتا ہے جو اس میں آتے ہیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے جس کا ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے اور مسجدوں کی تعمیر پر شکر ادا کرنے کا طریق جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھایا ہے وہ اس آیت میں بیان ہوا ہے جو میں نے تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ کی مساجد تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائے۔پس قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کئے جائیں۔پس اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان جو ایک مومن ہونے کی اور مسلمان ہونے کی بنیادی شرط ہے یہ تو ضروری ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیام نماز بھی ضروری ہے۔اور قیام نماز کیا ہے ؟ یہ پانچ وقت مقررہ وقت پر نماز باجماعت کے لئے آنا ہے۔قیام نماز کا مطلب ہی یا نماز کے قائم کرنے کا مطلب ہی باجماعت نماز ادا کرنا ہے۔پھر زکوۃ دینا ہے۔زکوۃ کیا ہے ؟ یہ اپنے مال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر کے پاک کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمد ی اس قربانی میں بڑھے ہوئے ہیں۔لیکن نمازوں میں آنا اور باجماعت ادا کرنا اس میں سستی ہر جگہ پائی جاتی ہے