خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 576
خطبات مسرور جلد 14 576 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2016 ہماری جماعت کی مسجد قائم ہو گئی تو سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی۔اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنا دینی چاہئے پھر خدا خود مسلمانوں کو کھینچ لاوے گالیکن شرط یہ ہے " جو شرط آپ نے بیان فرمائی اس کو سامنے رکھنا ہو گا۔فرمایا کہ شرط یہ ہے " کہ قیام مسجد میں نیت بہ اخلاص ہو۔"مسجد بنانے میں نیک نیتی ہو " محض اللہ اسے کیا جاوے۔نفسانی اغراض یا کسی شر کو ہر گز دخل نہ ہو تب خدا برکت دے گا۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 119) پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔لیکن ساتھ ہی اس شرط کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہو گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے کہ اخلاص ہو۔صرف وقتی جذبہ اور جوش نہ ہو کہ صرف اچھی مسجد کی تعمیر ہی مد نظر ہو بلکہ اس کے مقاصد کو پورا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔صرف نام و نمود کے لئے مسجد نہ بنائی جائے۔صرف اس لئے نہیں کہ اتنی مالی قربانی کی ہے یا اتنے گھنٹے اپنا وقت دیا ہے یا کسی مقابلے کی وجہ سے نہیں ہونا چاہئے۔خالصہ اللہ مسجد کی تعمیر ہو۔جیسا کہ میں نے ذکر کیا ان تینوں بھائیوں اور جو چوتھے کنٹریکٹر بھی شامل ہو گئے جنہوں نے تعمیر میں زیادہ حصہ لیا مجھ سے کل ملاقات بھی کی اور اس بات پر خوش تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں توفیق دی کہ اس ثواب میں حصہ لیا۔اب اللہ تعالیٰ نے انہیں بعض بڑے ٹھیکے بھی دلوا دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ بغیر نوازے نہیں چھوڑتا۔کبھی جلدی عطا فرماتا ہے، کبھی دیر سے۔بلکہ ان بھائیوں میں سے ایک منصور صاحب نے مجھے لکھا ہے کہ ایک لڑکے نے جسے یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا تھا، پہلے وہ کام بھی کر رہا تھا، کام سے انکار کیا پھر اس کو خواب آئی کہ مسجد تعمیر کرنے کے لئے ٹھیکیداروں کو تمہاری ضرورت ہے چنانچہ انہوں نے رابطہ کیا اور یہاں کام کرنا شروع کر دیا۔اس دوران میں مالی حالات بھی ان کے خراب ہوتے گئے۔ایک دن بیوی نے کہا کہ گھر کا خرچ چلانے کے لئے کوئی پیسے نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس طرح نوازا کہ اسی دن یا اگلے دن غالباً ٹیکس کریڈٹ والوں نے کچھ رقم دے دی کہ تمہاری زائد رقم تھی۔وہ رقم واپس آئی۔پھر child benefit کی طرف سے رقم آگئی اور اس طرح ان کو تیرہ چودہ ہزار ڈالر مل گئے۔پس نیست کی نیکی شرط ہے اللہ تعالیٰ پھر نواز تا بھی ہے۔افریقہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کئی لوگ ہیں جو بڑی بڑی مساجد بنا کر دیتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ جب میں غانا میں تھا تو ایک شہر جس میں کچھ عرصہ میں رہا ہوں اس کا نام شمالے (Tamale) ہے۔اس میں ہماری ایک چھوٹی سی مسجد تھی۔کچے بلا کس کی بنی ہوئی مسجد تھی جس پر اندر باہر پلستر کر کے اس کو مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔جب میں خلافت کے بعد پہلے دورے پر غانا گیا ہوں تو ٹمالے بھی گیا اور میں نے دیکھا کہ وہاں ایک بہت بڑی دومنزلہ مسجد ہے، جو یہ آپ کی مسجد ہے اس سے قریباً تین گنا بڑی ہو گی۔ساتھ اس کے دفاتر و غیرہ بھی ہیں۔اور