خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 573
خطبات مسرور جلد 14 573 45 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2016 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 04/ نومبر 2016ء بمطابق 104 نبوت 1395 ہجری شمسی بمقام مسجد محمود، ریجائنا، کینیڈا تلاوت فرمائی: تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَأَتَى الزَّكُوةَ وَلَمْ يَخْشَ (التوبة : 18) إِلَّا الله فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ الحمد للہ جماعت احمد یہ رجائنا ( Regina) کو بھی اللہ تعالیٰ نے مسجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی۔ماشاء اللہ بڑی خوبصورت مسجد ہے۔اس وقت جو یہاں جماعت کی تعداد ہے وہ ارد گرد کے قریبی علاقوں سمیت تقریباً 160 لوگ ہیں اور مسجد کی گنجائش جو بتائی گئی ہے اس کے مطابق مسجد کے بالوں سمیت اس میں چار سو افراد نماز پڑھ سکتے ہیں اور اگر ضرورت ہو تو کامن ایریا ( common area) میں بھی مزید سو (100) افراد کی گنجائش نکل سکتی ہے۔گویا کہ اس وقت جو جماعت کی تعداد ہے اس کے لحاظ سے یہ مسجد موجودہ ضرورت سے تین گنا بڑی ہے۔مجھے بتایا گیا ہے کہ اس کے اخراجات بھی مقامی جماعت نے ہی ادا کئے ہیں یا ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے بلکہ نقدر قم کے لحاظ سے جو گل خرچ ہوا ہے اس کا بھی تقریبا تیسر ا حصہ دو افراد نے ادا کرنے کی ذمہ داری لی ہے جن میں سے ایک ہمارے ڈاکٹر شمس الحق شہید کی بیوہ ہیں۔یہ جو میں نے کہا کہ نقدر قم کے لحاظ سے یہ اس لئے کہ جب مسجد کی تعمیر کا کام شروع کرنے کا مرحلہ آیا اور کنٹریکٹرز سے رابطے کئے گئے تو کم سے کم ٹینڈر بھی یہ کہتے ہیں کہ 2۔8 ملین کا تھا جس میں باقی اخراجات ملا کر 3۔5 ملین ڈالر تک بات پہنچتی ہے۔لیکن جو گل خرچ ہوا ہے مسجد کی تعمیر میں اور اس کو مکمل کرنے میں وہ 1۔6 ملین ڈالر کا ہوا ہے۔اب ایک دنیا دار اس بات کو سن کر حیران ہو گا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ٹھیکیداروں کے کم سے کم