خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 574 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 574

خطبات مسرور جلد 14 574 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2016 ٹینڈر کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رقم میں مسجد کی تکمیل ہو گئی۔یقینا ایک دنیا دار اس کا اندازہ نہیں لگا سکتا کیونکہ اسے نہیں پتا کہ قربانی کیا ہوتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت نے قربانیوں کے کیا معیار قائم کئے ہیں۔جان، مال، وقت کو قربان کرنے کی جو مثالیں ملتی ہیں وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں ہی ملتی ہیں۔یہ مزاج جماعت احمدیہ کا ہر جگہ ہے چاہے وہ پاکستان کے احمدی ہوں، جانی ومالی قربانی پیش کرنے والے ہیں۔چاہے وہ افریقہ کے رہنے والے احمدی ہیں جن کے پاس اگر مال نہیں ہے تو وقت کی قربانی کر کے اور جو کچھ بھی ہے اس کو دے کر مساجد اور جماعتی کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔چاہے انڈو نیشیا کے رہنے والے احمدی ہیں یا یورپ کے رہنے والے احمدی ہیں یا یہاں کینیڈا کے رہنے والے احمد ی ہیں یاد نیا کے کسی بھی خطے کے رہنے والے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ قربانی کی توفیق دیتا ہے اس لئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کو اپنا مقصود بنایا ہے۔اس مسجد کی تعمیر میں جماعت کے اموال کی جو نصف سے زائد رقم بچائی گئی وہ مجھے بتایا گیا کہ سکاٹون کے تین بھائیوں نے جو تعمیر کے کام میں ہیں رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں اور اس طرح یہ رقم بچائی۔اسی طرح دیگر رضا کار بھی کام میں شامل ہوئے۔ان بھائیوں کی جو کنٹریکٹر ہیں ان کی مدد ایک چوتھے کنٹریکٹر کی طرف سے بھی ہوئی جس کو اللہ تعالیٰ نے شاید اسی کام کے لئے ٹورانٹو سے یہاں بھیجا تھا جہاں ان کا کام ختم ہو گیا اور یہاں آئے۔تو بہر حال ان سب نے مل کر یہ کام کیا اور پھر باقی رضا کار بھی جن میں سے جو یہاں رجائنا(Regina) کے مقامی لوگ بھی ہیں، سکاٹون سے بھی آئے، کیلگری سے بھی آئے ، ایڈ منٹن سے بھی آئے اور پھر ٹورانٹو سے بھی آئے جن میں خدام بھی شامل ہیں، انصار بھی شامل ہیں اور سوائے اس کام کے جس کے لئے جماعت میں پیشہ وارانہ مہارت رکھنے والے نہ تھے سب کام ان کنٹریکٹر ز اور رضا کاروں نے کئے۔اب دنیا دار کنٹریکٹر تو یہ سوچ نہیں سکتے لیکن ان لوگوں نے اپنے روپے اور وقت کی کوئی پرواہ نہیں کی۔اسی طرح لجنہ نے بھی علاوہ مالی قربانی کے ان رضاکاروں کے کھانے کا انتظام کر کے اس خدمت کی وجہ سے اس تعمیر میں حصہ لیا اور وہ بھی حصہ دار بن گئیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ تقریباً ساڑھے اکتالیس ہزار گھنٹے اس مسجد پر رضا کاروں نے رضا کارانہ کام کیا۔بعض نے تو یہاں یہ بھی نہیں دیکھا ہو گا کہ کام کا وقت آٹھ گھنٹے ہے اور پانچ دن کام کرنا ہے۔میرے خیال میں بعضوں نے کئی کئی گھنٹے دن رات ایک کر کے کام کیا ہو گا۔اور سات دن تک کام کیا ہو گا۔کوئی وقت کی پابندی نہیں ہو گی۔یہ جذبہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر جگہ احمدیوں میں نظر آتا ہے جیسا کہ میں نے کہا۔ایک طرف بعض مسلمان دنیا میں بدامنی پھیلانے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف دنیا کے ایسے حصہ میں