خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 571 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 571

خطبات مسرور جلد 14 571 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2016 ہوں تاکہ مساجد مشن ہاؤسز سکول ہسپتال وغیرہ کی تعمیر کے کاموں میں صحیح نگرانی کر کے اور پلانٹنگ کر کے جماعتی اموال کو بچایا جا سکے۔کم پیسے میں زیادہ بہتر سہولت مہیا کی جاسکے۔پھر پیرا میڈیکل سٹاف بھی چاہئے اس میں بھی آنا چاہئے تو یہ تو وہ چند بعض اہم شعبے ہیں جن کی جماعت کو فی الحال ضرورت ہے۔آئندہ ضروریات حالات کے مطابق بدلتی بھی رہیں گی۔بعض واقفین ٹو کی اپنی دلچسپی بھی بعض مضامین میں زیادہ ہوتی ہے اور جب میرے سے پوچھتے ہیں تو میں ان کی دلچسپی دیکھتے ہوئے ان کو اجازت بھی دے دیتا ہوں کہ وہ پڑھیں لیکن یہاں میں طلباء کو یہ بھی کہوں گا کہ وہ سائنس کے مختلف شعبوں میں ریسرچ میں بھی جائیں اور اس میں عمومی طور پر واقفین کو بھی اور دوسرے سٹوڈنٹس بھی شامل ہیں۔سائنس کے مختلف شعبہ جات کی ریسرچ میں ہمارے بہترین سائنس دان پیدا ہو جائیں تو آئندہ جہاں دین کا علم دینے والے احمدی ہوں گے اور دنیا دین سیکھنے کے لئے آپ کی محتاج ہو گی وہاں دنیاوی علم دینے والے بھی احمدی مسلمان ہوں گے اور دنیا آپ کی محتاج ہو گی۔ایسی صورت میں واقفین ٹو بیشک دنیا کا کام کر رہے ہوں گے لیکن ان کا مقصد اس علم اور کام کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو دنیا پر ثابت کرنا ہو گا، اس کے دین کو پھیلانا ہو گا۔اسی طرح دوسرے شعبہ جات میں واقفین کو جاسکتے ہیں لیکن بنیادی مقصد یہ ہے اور جس کو ہر ایک کو جاننا چاہئے کہ میں واقف زندگی ہوں اور کسی وقت بھی مجھے دنیاوی کام چھوڑ کر دین کی ضرورت کے لئے پیش ہونے کا کہا جائے تو بغیر کسی عذر کے، بغیر کسی حیل و حجت کے آجاؤں گا۔ایک اہم بات جو ہر واقف ٹو کو یا در کھنی چاہئے کہ دنیا کے کام کرنے کی اجازت انہیں دی جاتی ہے لیکن یہ دنیا کے کام انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور دین کا علم اور دین کی خدمت سے محروم کرنے والا نہ ہو بلکہ اس کے اعلیٰ معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش ان کی اولین ترجیح ہو۔قرآن کریم کی تفسیر اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ ہر وقف ٹو کے لئے ضروری ہے۔وقف کو شعبہ نے غالباً اکیس سال کی عمر تک سلیبس بنایا ہوا ہے وہ موجود ہے اس کے بعد خود اپنے دینی مطالعہ کو بڑھائیں یہ ضروری ہے۔ماں باپ کو بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ جتنی چاہے اپنے بچوں کی زبانی تربیت کر لیں اس کا اثر اس وقت تک نہیں ہو گاجب تک اپنے قول و فعل کو اس کے مطابق نہیں کریں گے۔ماں باپ کو اپنی نمازوں کی حالتوں کو نمونہ بنانا ہو گا۔قرآن کریم کے پڑھنے پڑھانے کے لئے اپنے نمونے قائم کرنے ہوں گے۔اعلیٰ اخلاق کے لئے نمونہ بننا ہو گا۔دینی علم سیکھنے کی طرف خود بھی توجہ کرنی ہو گی۔جھوٹ سے نفرت کے اعلیٰ نمونے قائم کرنے ہوں گے۔باوجود اس کے کہ بعض کو کسی عہدیدار سے تکلیف پہنچی ہو گھروں میں نظام کے خلاف یا عہدیداروں کے خلاف