خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 569 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 569

خطبات مسرور جلد 14 569 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2016 ذیلی تنظیموں کے پروگرام ہیں تو آپس میں مل جل کر ایک ایسے وقت رکھے جاسکتے ہیں جس میں ذیلی پروگرام کریں اور وقف کو والے اپنے۔اور کوئی clash نہ ہو۔پس اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔وقف ٹو جیسا کہ میں نے کہا بڑے سپیشل ہیں لیکن سپیشل ہونے کے لئے ان کو ثابت کرنا ہو گا۔کیا ثابت کرنا ہو گا ؟ کہ وہ خدا تعالیٰ سے تعلق میں دوسروں سے بڑھے ہوئے ہیں تب وہ سپیشل کہلائیں گے۔ان میں خوف خدا دوسروں سے زیادہ ہے تب وہ سپیشل کہلائیں گے۔ان کی عبادتوں کے معیار دوسروں سے بہت بلند ہیں تب وہ سپیشل کہلائیں گے۔وہ فرض نمازوں کے ساتھ نوافل بھی ادا کرنے والے ہیں تب وہ سپیشل کہلائیں گے۔ان کے عمومی اخلاق کا معیار انتہائی اعلیٰ درجہ کا ہے۔یہ ایک نشانی ہے سپیشل ہونے کی۔ان کی بول چال، بات چیت میں دوسروں کے مقابلے میں بہت فرق ہے۔واضح پتا لگتا ہے کہ خالص تربیت یافتہ اور دین کو دنیا پر ہر حالت میں مقدم کرنے والا شخص ہے تب سپیشل ہوں گے۔لڑکیاں ہیں تو ان کا لباس اور پردہ صحیح اسلامی تعلیم کا نمونہ ہے جسے دوسرے لوگ بھی دیکھ کر رشک کرنے والے ہوں اور یہ کہنے والے ہوں کہ واقعی اس ماحول میں رہتے ہوئے بھی ان کے لباس اور پر دہ ایک غیر معمولی نمونہ ہے تب سپیشل ہوں گی۔لڑکے ہیں تو ان کی نظریں حیا کی وجہ سے نیچے جھکی ہوئی ہوں نہ کہ ادھر ادھر غلط کاموں کی طرف دیکھنے والی تب سپیشل ہوں گے۔انٹرنیٹ اور دوسری چیزوں پر لغویات دیکھنے کی بجائے وہ وقت دین کا علم حاصل کرنے کے لئے صرف کرنے والے ہوں تو تب سپیشل ہوں گے۔لڑکوں کے حلیے دوسروں سے انہیں ممتاز کرنے والے ہوں تو تب سپیشل ہوں گے۔وقف کو لڑکے اور لڑکیاں روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے اور اس کے احکامات کی تلاش کر کے اس پر عمل کرنے والے ہوں تو پھر سپیشل کہلا سکتے ہیں۔ذیلی تنظیموں اور جماعتی پروگراموں میں دوسروں سے بڑھ کر اور باقاعدہ حصہ لینے والے ہیں تو پھر سپیشل ہیں۔والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے لئے دعاؤں میں اپنے دوسرے بہن بھائیوں سے بڑھے ہوئے ہیں تو یہ ایک خصوصیت ہے۔رشتوں کے وقت لڑکے بھی اور لڑکیاں بھی دنیا دیکھنے کی بجائے دین دیکھنے والے ہیں اور پھر وہ رشتے نبھانے والے بھی ہیں تو تب کہہ سکتے ہیں کہ ہم خالصةً دینی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنے رشتے نبھانے والے ہیں تو پیشل کہلائیں گے۔ان میں برداشت کا مادہ دوسروں سے زیادہ ہے ، لڑائی جھگڑا اور فتنہ و فساد کی صورت میں اس سے بچنے والے ہیں بلکہ صلح کروانے والے ہیں تو سپیشل ہیں۔تبلیغ کے میدان میں سب سے آگے آکر اس فریضہ کو سرانجام دینے والے ہیں تب سپیشل ہیں۔خلافت کی اطاعت اور اس کے فیصلوں پر عمل میں صف اول میں ہیں تو سپیشل ہیں۔دوسروں سے زیادہ سخت جان اور قربانیاں کرنے والے ہیں تو بالکل سپیشل ہیں۔عاجزی اور بے نفسی میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں، تکبر سے نفرت اور اس کے خلاف جہاد کرنے والے ہیں تو بڑے سپیشل ہیں۔ایم ٹی اے پر میرے خطبے سننے والے اور میرے ہر