خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 568
خطبات مسرور جلد 14 568 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2016 خواہشیں کیسی ؟ خواہشیں تو ختم ہو گئیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ واقفین کو میں شامل کرنے کارجحان بڑھ رہا ہے یہ بڑی اچھی بات ہے تو اس رجحان کو اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کرتے ہوئے بڑھائیں نہ کہ حالات کے بدلنے سے اپنے عہدوں کو کمزور کرنے والے یا توڑنے والے بن جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ بغیر دکھ کے، بغیر تکلیف کے قربانی نہیں ہو سکتی۔حالات اگر بدلے ہیں تو ہم نے اس کو برداشت کرنا ہے خاص طور پر انہوں نے جنہوں نے اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کیا یا جن کے ماں باپ نے اپنے بچوں کو پیش کیا اور پھر انہوں نے اس کی تجدید کی کہ ہم اپنے عہد جاری رکھیں گے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جب انسان خدا کے لئے ہر قربانی کے لئے تیار ہو جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نوازتا ہے، اللہ تعالیٰ نہیں چھوڑتا اور بے انتہا نوازتا ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ تمام واقفین کو بھی اور ان کے ماں باپ بھی وقف کی حقیقت کو سمجھتے ہوئے اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہوں اور اپنی وفاؤں کے معیاروں کو بلند سے بلند تر کرتے چلے جانے والے ہوں۔مختصراً بعض انتظامی باتوں اور واقفین کے لئے لائحہ عمل کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔بعض لوگ سوال اٹھاتے ہیں۔بعض واقفین کو کے ذہنوں میں غلط فہمیاں ہیں کہ وقف کو ہو کر ان کی کوئی علیحدہ ایک شناخت بن گئی ہے۔شناخت تو بیشک بن گئی ہے لیکن اس شناخت کے ساتھ ان سے غیر معمولی طور پر امتیازی سلوک نہیں ہو گا بلکہ اس شناخت کے ساتھ ان کو اپنی قربانیوں کے معیار بڑھانے ہوں گے۔بعض لوگ اپنے واقفین کو بچوں کے دماغوں میں یہ بات ڈال دیتے ہیں کہ تم بڑے سپیشل بچے ہو جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بڑے ہو کر بھی ان کے دماغوں میں سپیشل ہو نا رہ جاتا ہے۔اور یہاں بھی اس قسم کی باتیں مجھے پہنچی ہیں۔وہ وقف کی حقیقت کو پیچھے کر دیتے ہیں اور وقف ٹو کے ٹائٹل کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھ لیتے ہیں کہ ہم سپیشل ہو گئے۔بعض کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ کیونکہ ہم وقف تو میں ہیں اس لئے ہمیں اگر لڑکیاں ہیں تو ناصرات اور لجنہ اور لڑکے ہیں تو اطفال اور خدام کے پروگراموں میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ہماری تنظیم ایک علیحدہ تنظیم بن گئی۔یہ بالکل غلط تصور ہے اگر کسی کے دل میں ہے۔جماعت کا تو کوئی عہدیدار بھی حتی کہ امیر جماعت بھی اپنی عمر کے لحاظ سے متعلقہ ذیلی تنظیم کا ممبر ہوتا ہے۔پس ہر واقف نو لڑکی اور لڑکے کو یا درکھنا چاہئے کہ وہ عمر کے لحاظ سے اپنی تنظیموں کے ممبر ہیں جس جس عمر میں ہیں اور ان کے لئے ان کے پروگراموں میں حصہ لینا ضروری ہے اور جو حصہ نہیں لیتا ان کے بارے میں متعلقہ تنظیم کا صدر جو ہے وہ رپورٹ کرے اور اگر اس وقف نو کی اصلاح نہیں ہوتی تو پھر ایسے بچے کو یا لڑ کے کو یا نوجوان کو وقف ٹو سکیم سے نکال دیا جائے گا۔ہاں اگر بعض جماعتی پروگرام ہیں، وقف نو کا پروگرام ہے،