خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 567 of 830

خطبات مسرور (جلد 14۔ 2016ء) — Page 567

خطبات مسرور جلد 14 567 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2016 الَّذِي وَقُى (النجـ (النجم : 38 ) ابراہیم وہ ابراہیم ہے جس نے وفاداری دکھائی۔خدا تعالیٰ کے ساتھ وفا داری اور صدق اور اخلاص دکھانا ایک موت چاہتا ہے۔جب تک انسان دنیا اور اس کی ساری لذتوں اور شوکتوں پر پانی پھیر دینے کو تیار نہ ہو جاوے اور ہر ذلّت اور سختی اور تنگی خدا کے لئے گوارا کرنے کو تیار نہ ہو یہ صفت پیدا نہیں ہو سکتی۔بت پرستی یہی نہیں کہ انسان کسی درخت یا پتھر کی پرستش کرے بلکہ ہر ایک چیز جو اللہ تعالیٰ کے قرب سے روکتی اور اس پر مقدم ہوتی ہے وہ بت ہے اور اس قدر بت انسان اپنے اندر رکھتا ہے کہ اس کو پتا بھی نہیں لگتا کہ میں بت پرستی کر رہا ہوں۔" کہیں آجکل کے زمانے میں ڈرامے بت بن گئے ہیں۔کہیں انٹرنیٹ بت بن گیا ہے۔کہیں دنیا کمانابت بن گیا ہے۔کہیں اور خواہشات بت بن گئی ہیں۔پر آپ نے فرمایا کہ انسان کو پتا ہی نہیں لگتا کہ میں بت پرستی کر رہاہوں اور وہ اندر ہی اندر کر رہا ہوتا ہے۔پس فرمایا کہ " پس جب تک خالص خدا تعالیٰ ہی کے لئے نہیں ہو جاتا اور اس کی راہ میں ہر مصیبت کی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہو تا صدق اور اخلاص کا رنگ پیدا ہونا مشکل ہے۔فرمایا کہ " ابراہیم علیہ السلام کو جو یہ خطاب ملا یہ یو نہی مل گیا تھا ؟ نہیں۔اِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَقُی کی آواز اُس وقت آئی جب وہ بیٹے کی قربانی کے لئے تیار ہو گیا۔اللہ تعالی عمل کو چاہتا ہے اور عمل ہی سے راضی ہو تا ہے اور عمل دکھ سے آتا ہے۔" عمل دکھ سے آتا ہے یعنی انسان کو جو نیک اعمال ہیں ان کے بجالانے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے اعمال کے لئے قربانی کرنی پڑتی ہے۔اپنے آپ کو تکلیف اور دکھ میں ڈالنا پڑتا ہے۔لیکن دکھ میں ہمیشہ نہیں رہتا انسان۔عمل کرنے میں بیشک دکھ ہے لیکن دکھ میں ہمیشہ نہیں رہتا انسان۔فرمایا لیکن جب انسان خدا کے لئے دکھ اٹھانے کے لئے تیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اس کو دکھ میں بھی نہیں ڈالتا۔دیکھو ابراہیم علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لئے اپنے بیٹے کو قربان کر دینا چاہا اور پوری تیار کر لی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بیٹے کو بچا لیا۔" بیٹے کی جان بھی بچ گئی اور باپ کو بیٹے کی قربانی کی وجہ سے جو دکھ ہو نا تھا اس دکھ سے بھی نجات ہو گئی۔فرمایا کہ " وہ آگ میں ڈالے گئے "حضرت ابراہیم علیہ السلام "لیکن آگ ان پر کوئی اثر نہ کر سکی۔" فرماتے ہیں کہ اگر انسان " اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکلیف اٹھانے کو تیار ہو جاوے تو خد اتعالیٰ تکالیف سے بچالیتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 429-430) پس یہ وہ معیار ہے اللہ تعالیٰ کا پیار جذب کرنے کے لئے اور اس کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے پیش فرمایا ہے اور ہم سے اس کے حصول کی توقع رکھی ہے۔یہ معیار نہ صرف ہر واقف نو کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے بلکہ ہر واقف زندگی کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک قربانیوں کے معیار نہیں بڑھیں گے ہمارے وقف زندگی کے دعوے سطحی دعوے ہوں گے۔بعض مائیں کہہ دیتی ہیں ہم کینیڈا آگئے ہیں ہمارا بیٹا پاکستان میں مربی ہے یا وقف زندگی ہے اسے بھی یہاں بلالیں اور یہیں اس کی ڈیوٹی لگا دیں یا ہمارے پاس آجائے۔جب وقف کر دیا تو پھر مطالبے کیسے ؟ پھر یہ